حدیث نمبر: 17591
عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَغْفِرُكَ لِمَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ ، إِنَّكَ أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ ، وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ " . قُلْتُ : لَهُ فِي الصَّحِيحِ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ " . إِلَى آخِرِهِ . وَهَذَا : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَغْفِرُكَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ ابْنَ بُرَيْدَةَ قَالَ : حُدِّثْتُ عَنِ الْأَشْعَرِيِّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے : ” اے اللہ ! بے شک میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ، اس کی ، جو میں نے پہلے کیا ، اس کی جو میں بعد میں کروں گا ، اس کی جو میں نے پوشیدہ طور پر کیا ، اس کی جو میں نے علانیہ طور پر کیا ، بے شک تو آگے کرنے والا ہے ، اور تو پیچھے کرنے والا ہے ، اور تو ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک روایت مذکور ہے ، جس میں یہ الفاظ ہیں : ” اے اللہ ! تو میری مغفرت کر دے ، اس کے حوالے سے ، جو میں نے پہلے کیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس کے بعد سے لے کر آخر تک الفاظ ہیں اور یہاں یہ الفاظ ہیں : ” اے اللہ ! میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، البتہ ابن بریدہ نے یہ کہا: ہے : مجھے اشعری کے حوالے سے
یہ روایت بیان کی گئی ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک روایت مذکور ہے ، جس میں یہ الفاظ ہیں : ” اے اللہ ! تو میری مغفرت کر دے ، اس کے حوالے سے ، جو میں نے پہلے کیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس کے بعد سے لے کر آخر تک الفاظ ہیں اور یہاں یہ الفاظ ہیں : ” اے اللہ ! میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، البتہ ابن بریدہ نے یہ کہا: ہے : مجھے اشعری کے حوالے سے
یہ روایت بیان کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 17592
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَفَعَ الْحَدِيثَ - أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ; كُتِبَتْ كَمَا قَالَهَا ، ثُمَّ عُلِّقَتْ بِالْعَرْشِ لَا يَمْحُوهَا ذَنْبٌ عَمِلَهُ صَاحِبُهَا ، حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ وَهِيَ مَخْتُومَةٌ كَمَا قَالَهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَالِكُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَالِكٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ” مرفوع “ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) ” جو شخص یہ پڑھتا ہے : ” میں اللہ تعالیٰ کی پاکی کا اعتراف کرتا ہوں ، اس کی حمد کے ہمراہ ، اور میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ، اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو ان کلمات کو اسی طرح نوٹ کر لیا جاتا ہے جس طرح اس نے پڑھے ہوں اور پھر عرش کے ساتھ لٹکا دیا جاتا ہے ، ان کو پڑھنے والے شخص نے ، جو بھی گناہ کیا ہو ، ایسا کوئی بھی گناہ ان کلمات کو مٹاتا نہیں ہے ، یہاں تک کہ جب وہ شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو ان کلمات پر مہر لگی ہوئی ہو گی ( اور اس شخص کو ان کا اجر و ثواب عطا کیا جائے گا ) ۔
حدیث نمبر: 17593
وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ أَوْفَى كَلِمَةٍ عِنْدَ اللَّهِ أَنْ يَقُولَ الْعَبْدُ : اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي ، وَأَنَا عَبْدُكَ ، ظَلَمْتُ نَفْسِي ، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي ، وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ ، أَيْ رَبِّ فَاغْفِرْ لِي ذَنْبِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ بھرپور کلمہ یہ ہے کہ بندہ یہ کہے : ” اے اللہ ! بے شک تو میرا پروردگار ہے ، اور میں تیرا بندہ ہوں ، میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے ، میں اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں ، اور گناہوں کی مغفرت ، صرف تو ہی کر سکتا ہے ، اے میرے پروردگار ! تو میرے گناہوں کی مغفرت کر دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاش ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاش ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 17594
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : لَا يَقُولُ رَجُلٌ : أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ; إِلَّا غُفِرَ لَهُ ، وَإِنْ كَانَ فَرَّ مِنَ الزَّحْفِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مَوْقُوفًا ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جو شخص تین مرتبہ یہ پڑھتا ہے : ” میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگتا ہوں ، جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، وہ زندہ ہے اور بذات خود قائم ہے ، اور میں اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔ “ تو اس شخص کی مغفرت ہو جاتی ہے ، اگرچہ وہ میدان جنگ سے فرار ہوا ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔