مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التوبة— توبہ کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الِاسْتِغْفَارِ . باب: استغفار کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " عَلَيْكُمْ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَالِاسْتِغْفَارِ ; فَإِنَّ إِبْلِيسَ قَالَ : أَهْلَكْتُ النَّاسَ بِالذُّنُوبِ فَأَهْلَكُونِي بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَالِاسْتِغْفَارِ ، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ أَهْلَكْتُهُمْ بِالْأَهْوَاءِ ، وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ مُهْتَدُونَ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ مَطَرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم پر لازم ہے کہ «لا اله الا الله» پڑھتے رہو اور مغفرت طلب کرتے رہو ، کیونکہ ابلیس نے یہ کہا: ہے : میں گناہوں کے ذریعے لوگوں کو ہلاکت کا شکار کرتا ہوں ، اور وہ «لا إله إلا الله» پڑھنے اور مغفرت طلب کرنے کے ذریعے مجھے ہلاکت کا شکار کر دیتے ہیں ، جب میں انہیں اس صورتحال میں دیکھتا ہوں ، تو میں انہیں نفسانی خواہشات کے ذریعے ہلاکت کا شکار کر دیتا ہوں ، اور وہ لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن مطر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔