مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التوبة— توبہ کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الِاسْتِغْفَارِ . باب: استغفار کے بارے میں ، جو منقول ہے
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ إِبْلِيسَ قَالَ لِرَبِّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - : وَعِزَّتِكَ وَجَلَالِكَ لَا أَبْرَحُ أُغْوِي بَنِي آدَمَ مَا دَامَتِ الْأَرْوَاحُ فِيهِمْ ، فَقَالَ لَهُ رَبُّهُ : فَبِعِزَّتِي وَجَلَالِي ، لَا أَبْرَحُ أَغْفِرُ لَهُمْ مَا اسْتَغْفَرُونِي " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ ، وَقَالَ : " لَا أَبْرَحُ أُغْوِي عِبَادَكَ " . وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَكَذَلِكَ أَحَدُ إِسْنَادَيْ أَبِي يَعْلَى . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ابلیس نے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں عرض کی : مجھے تیری عزت اور تیرے جلال کی قسم ہے ، میں مسلسل اولاد آدم کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا رہوں گا ، جب تک اُن کی روحیں ان کے جسموں میں ہیں ، تو پروردگار نے اس سے فرمایا : مجھے اپنی عزت اور اپنے جلال کی قسم ہے ، وہ جب تک مجھ سے مغفرت مانگتے رہیں گے ، میں مسلسل ان کی مغفرت کرتا رہوں گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” میں مسلسل تیرے بندوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا رہوں گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام أحمد کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، امام ابویعلیٰ کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال بھی اسی طرح ہیں ۔