مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التوبة— توبہ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ طَالَ عُمْرُهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ . باب: مسلمانوں میں سے ، جس کی عمر طویل ہو ، اس کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا بَلَغَ الْمَرْءُ الْمُسْلِمُ خَمْسِينَ سَنَةً صَرَفَ اللَّهُ عَنْهُ ثَلَاثَةَ أَنْوَاعٍ مِنَ الْبَلَاءِ : الْجُنُونَ ، وَالْجُذَامَ ، وَالْبَرَصَ ، فَإِذَا بَلَغَ سِتِّينَ رَزَقَهُ اللَّهُ الْإِنَابَةَ إِلَيْهِ ، فَإِذَا بَلَغَ سَبْعِينَ سَنَةً مُحِيَتْ سَيِّئَاتُهُ ، وَكُتِبَتْ حَسَنَاتُهُ ، فَإِذَا بَلَغَ تِسْعِينَ سَنَةً غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ذَنْبَهُ ، مَا تَقَدَّمَ مِنْهُ وَمَا تَأَخَّرَ ، وَكَانَ أَسِيرَ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ ، وَشَفِيعًا لِأَهْلِ بَيْتِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، وَلَمْ يُدْرِكْهُ ، وَلَكِنَّ رِجَالَهُ ثِقَاتٌ ، إِنْ كَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارٍ الْأَنْصَارِيُّ هُوَ سِبْطَ ابْنِ سَعْدٍ الْقَرَظِ ، وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ هُوَ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤ وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَجَاهِيلُ كَمَا قَالَ . ¤سیدنا عبداللہ بن ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب مسلمان شخص پچاس سال کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے تین قسم کی آزمائشیں پھیر دیتا ہے ، جنون ، جذام اور برص ، جب وہ 60 سال کا ہو جاتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اسے اپنی طرف رجوع کرنے کی توفیق نصیب کرتا ہے ، جب وہ ستر سال کا ہو جاتا ہے ، تو اس کے گناہ مٹا دیئے جاتے ہیں اور اس کی نیکیاں نوٹ کی جاتی ہیں ، جب وہ 90 سال کا ہو جاتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے گزشتہ اور آئندہ گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہے ، اور وہ زمین میں اللہ کا قیدی ہوتا ہے اور وہ اپنے اہل خانہ کے بارے میں شفاعت کرے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے عبداللہ بن عمرو بن عثمان کی ، سیدنا عبداللہ بن ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور انہوں نے ان کا زمانہ نہیں پایا ہے ، تاہم اس روایت کے رجال ” ثقہ “ ہیں ، اگر محمد بن عمار انصاری ، سیدنا سعد القرظ رضی اللہ عنہ کا پوتا ہو ، اور بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ وہی ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں مجہول راوی ہیں ، جیسا کہ انہوں نے یہ بات بیان کی ہے ۔