مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التوبة— توبہ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ طَالَ عُمْرُهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ . باب: مسلمانوں میں سے ، جس کی عمر طویل ہو ، اس کا بیان
وَفِي رِوَايَةٍ : " هَوَّنَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْحِسَابَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ عَمَّرَهُ اللَّهُ سِتِّينَ سَنَةً فِي الْإِسْلَامِ رَزَقَهُ اللَّهُ الْإِنَابَةَ إِلَيْهِ بِمَا يُحِبُّ اللَّهُ ، وَقَالَ أَبُو ضَمْرَةَ : " رَزَقَهُ اللَّهُ تَعَالَى حُسْنَ الْإِنَابَةِ إِلَيْهِ " وَمَنْ عَمَّرَهُ اللَّهُ سَبْعِينَ سَنَةً فِي الْإِسْلَامِ أَحَبَّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ وَأَهْلُ الْأَرْضِ ، وَمَنْ عَمَّرَهُ اللَّهُ ثَمَانِينَ سَنَةً فِي الْإِسْلَامِ مَحَا اللَّهُ سَيِّئَاتِهِ ، وَكَتَبَ حَسَنَاتِهِ " . ¤ قَالَ أَنَسٌ فِي حَدِيثِهِ : " كَتَبَ اللَّهُ حَسَنَاتِهِ ، وَلَمْ يَكْتُبْ سَيِّئَاتِهِ ، وَمَنْ عَمَّرَهُ اللَّهُ تِسْعِينَ سَنَةً فِي الْإِسْلَامِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ذُنُوبَهُ ، وَكَانَ أَسِيرَ اللَّهِ فِي أَرْضِهِ ، وَشَفِيعًا لِأَهْلِ بَيْتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالَ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ : " وَشُفِّعَ فِي أَهْلِ بَيْتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اُس کے لیے حساب کو آسان کر دے گا اور جسے اللہ تعالیٰ اسلام میں 60 سال کی زندگی دیدے ، اللہ تعالیٰ اسے اس چیز کی طرف رجوع کی توفیق نصیب کرے گا ، جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے ۔ ( یہاں ابوضمرہ نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ) ۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی طرف اچھے طریقے سے رجوع کرنے کی توفیق نصیب کرے گا ، اور جسے اللہ تعالیٰ اسلام میں ستر سال کی زندگی عطا کر دے ، آسمان والے اور زمین والے اس سے محبت رکھنے لگتے ہیں ، اور جسے اللہ تعالیٰ اسلام میں 80 سال کی زندگی عطا کر دے ، اللہ تعالیٰ اس کی برائیوں کو مٹا دے گا اور اس کی نیکیوں کو نوٹ کر لے گا ۔ “ ( انس نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ) ” اللہ تعالیٰ اس کی نیکیوں کو نوٹ کرے گا اور اس کی برائیوں کو نوٹ نہیں کرے گا اور جسے اللہ تعالیٰ اسلام میں نوے سال کی زندگی عطا کر دے ، اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کی مغفرت کر دے گا اور وہ زمین میں اللہ تعالیٰ کا اسیر ہو گا ، اور قیامت کے دن اپنے اہل خانہ کی شفاعت کرنے والا ہو گا ۔ “ ( انس بن عیاض نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ) ” قیامت کے دن اس کے اہل خانہ کے بارے میں ، اس کی شفاعت قبول کی جائے گی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک رجال ” ثقہ “ ہیں ۔