مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التوبة— توبہ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ طَالَ عُمْرُهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ . باب: مسلمانوں میں سے ، جس کی عمر طویل ہو ، اس کا بیان
وَعَنْ جَابِرٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخِيَارِكُمْ ؟ " . قَالُوا : بَلَى . قَالَ : " خِيَارُكُمْ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا ، وَأَطْوَلُكُمْ أَعْمَارًا " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ غَيْرَ قَوْلِهِ : " أَطْوَلُكُمْ أَعْمَارًا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں تمہارے بہترین لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے بہترین لوگ وہ ہیں ، جن کے اخلاق زیادہ اچھے ہوں اور جن کی عمریں زیادہ طویل ہوں ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کئے ہیں : ” جن کی عمریں زیادہ طویل ہوں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف مبارک بن فضالہ کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔