مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التوبة— توبہ کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي طُولِ عُمُرِ الْمُؤْمِنِ ، وَالنَّهْيِ عَنْ تَمَنِّيهِ الْمَوْتَ . باب: مومن کی عمر طویل ہونے اور اس کے موت کی آرزو کرنے کی ممانعت کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : جَلَسْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرْنَا وَرَقَقْنَا ، فَبَكَى سَعْدٌ فَأَكْثَرَ الْبُكَاءَ ، فَقَالَ : يَا لَيْتَنِي مُتُّ ! فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا سَعْدُ ، أَعِنْدِي تَتَمَنَّى الْمَوْتَ ؟ " . فَرَدَّدَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا سَعْدُ ، إِنْ كُنْتَ خُلِقْتَ لِلْجَنَّةِ فَمَا طَالَ عُمْرُكَ ، وَحَسُنَ مِنْ عَمَلِكَ ، فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَزَادَ فِيهِ : " وَإِنْ كُنْتَ خُلِقْتَ لِلنَّارِ ، فَبِئْسَ الشَّيْءُ تَتَعَجَّلُ إِلَيْهِ " . ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، آپ نے ہمیں وعظ و نصیحت کی ، دلوں کو نرم کرنے والی باتیں بیان کیں ، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ رونے لگے اور بہت روئے ، انہوں نے کہا: اے کاش ! میں مر چکا ہوتا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے سعد ! کیا تم میری موجودگی میں موت کی آرزو کر رہے ہو ؟ یہ مکالمہ تین مرتبہ ہوا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے سعد ! اگر تم جنت کے لیے پیدا ہوئے ہو ، تو تمہاری عمر جتنی بھی طویل ہو گی ، تمہارا عمل جتنا بھی اچھا ہو گا ، وہ تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہو گا ۔ “ یہی روایت امام أحمد ، امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور انہوں نے اس میں یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ” اور اگر تم جہنم کے لیے پیدا کیے گئے ہو تو وہ ایک بری چیز ہے ، جس کی طرف تم جلدی چلے جاؤ گے ۔ “ اس روایت کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔