حدیث نمبر: 17538
وَعَنْ أَبِي طَوِيلٍ شَطْبٍ الْمَمْدُودِ ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : أَرَأَيْتَ مَنْ عَمِلَ الذُّنُوبَ كُلَّهَا فَلَمْ يَتْرُكْ مِنْهَا شَيْئًا ، وَهُوَ فِي ذَلِكَ لَمْ يَتْرُكْ حَاجَّةً وَلَا دَاجَّةً إِلَّا أَتَاهَا ، فَهَلْ لِذَلِكَ مِنْ تَوْبَةٍ ؟ قَالَ : " فَهَلْ أَسْلَمْتَ ؟ " . قَالَ : فَأَمَّا أَنَا فَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ ، قَالَ : " تَفْعَلُ الْخَيْرَاتِ ، وَتَتْرُكُ السَّيِّئَاتِ ، فَيَجْعَلُهُنَّ اللَّهُ لَكَ خَيْرَاتٍ كُلَّهُنَّ " . قَالَ : وَغَدَرَاتِي وَفَجَرَاتِي ؟ ! قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، فَمَا زَالَ يُكَبِّرُ حَتَّى تَوَارَى . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " تَعْمَلُ الْخَيْرَاتِ ، وَتَسْبُرُ السَّبَرَاتِ " . وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ هَارُونَ أَبِي نَشِيطٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوطویل شطب ممدود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ جو شخص سارے گناہوں کا مرتکب ہوتا ہے ، اور وہ ان میں سے کوئی گناہ نہیں چھوڑتا ، اس حوالے سے وہ ہر چھوٹے بڑے گناہ کا ارتکاب کر لیتا ہے ، تو کیا اس کے لئے توبہ کی گنجائش ہو گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم نے اسلام قبول کر لیا ہے ؟ انہوں نے کہا: جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے ، تو میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور آپ ، اللہ کے رسول ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم بھلائی کے کام کرو ، برائی کے کام ترک کر دو ، اللہ تعالیٰ ان سب برائیوں کو تمہارے لئے نیکیاں بنا دے گا ، ان صاحب نے دریافت کیا : میری عہد شکنیوں اور میری زیادتیوں کو بھی ( اللہ تعالیٰ نیکیوں میں تبدیل کر دے گا ؟ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! ان صاحب نے کہا: اللہ اکبر ! اور پھر وہ مسلسل تکبیر کہتے رہے ، یہاں تک کہ نگاہوں سے اوجھل ہو گئے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” تم بھلائی کے کام کرو اور غور و فکر کرتے رہو ۔ “ امام بزار کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف محمد بن ہارون ابونشیط کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17538
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3244) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7235)»