حدیث نمبر: 17539
عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الْعَبْدَ لَيَلْتَمِسُ مَرْضَاةَ اللَّهِ تَعَالَى ، فَلَا يَزَالُ بِذَلِكَ فَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لِجِبْرِيلَ : إِنَّ فُلَانًا عَبْدِي يَلْتَمِسُ أَنْ يُرْضِيَنِي ، أَلَا وَإِنَّ رَحْمَتِي عَلَيْهِ . فَيَقُولُ جِبْرِيلُ : رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى فُلَانٍ ، وَيَقُولُهَا حَمَلَةُ الْعَرْشِ ، وَيَقُولُهَا مَنْ حَوْلَهُمْ حَتَّى يَقُولَهَا أَهْلُ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ ، ثُمَّ يَهْبِطُ إِلَى الْأَرْضِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مَيْمُونِ بْنِ عَجْلَانَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بیشک بندہ اللہ تعالیٰ کی رضا تلاش کرتا ہے اور وہ مسلسل اس کام میں مصروف رہتا ہے ، اللہ تعالیٰ سیدنا جبرائیل علیہ السلام سے فرماتا ہے : میرا فلاں بندہ مجھے راضی کرنا چاہتا ہے ، خبردار ! اس پر میری رحمت ہے ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ کی رحمت فلاں شخص پر نازل ہو ، پھر عرش کو اُٹھانے والے فرشتے یہی بات کہتے ہیں ، اور ان کے آس پاس موجود فرشتے یہی بات کہتے ہیں ، یہاں تک کہ ساتوں آسمانوں کے رہنے والے یہی بات کہتے ہیں ، پھر وہ بات زمین کی طرف اتار دی جاتی ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف میمون بن عجلان کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17539
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1262) اخرجه احمد فى المسند (279/5)»