مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التوبة— توبہ کے بارے میں روایات
بَابُ الْمُؤْمِنِ نَسَّاءٌ إِذَا ذُكِّرَ ذَكَرَ . باب: مومن بھولنے والا ہوتا ہے ، لیکن جب اسے یاد دلا دیا جائے ، تو اسے یاد آ جاتا ہے
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ إِلَّا وَلَهُ ذَنْبٌ يَعْتَادُهُ الْفَيْنَةَ بَعْدَ الْفَيْنَةِ ، أَوْ ذَنْبٌ هُوَ مُقِيمٌ عَلَيْهِ لَا يُفَارِقُهُ حَتَّى يُفَارِقَ ، وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ خُلِقَ مُفَتَّنًا ، تَوَّابًا ، نَسَّاءً ، إِذَا ذُكِّرَ ذَكَرَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ الْكَبِيرِ رِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَلَهُ السِّيَاقُ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جس بھی مومن کی یہ عادت ہو کہ وہ وقتاً فوقتاً کسی گناہ کا ارتکاب کرتا رہتا ہو ، یا کوئی ایسا گناہ ہو ، جس پر وہ عامل ہو اور وہ اس گناہ سے الگ نہ ہوتا ہو ، یہاں تک کہ وہ الگ ہو جائے ، تو مومن کی تخلیق ایسی حالت میں کی گئی ہے کہ وہ آزمائش کا شکار ہوتا ہے ( یعنی گناہ کا مرتکب ہوتا ہے ) اور بہت زیادہ توبہ کرنے والا ہوتا ہے ، اور بھولنے والا ہوتا ہے ، لیکن جب اسے یاد دلا دیا جائے ، تو اسے یاد آ جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں ، اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، معجم کبیر کی اسانید میں سے ایک کے رجال ” ثقہ “ ہیں ، اور سیاق ان کے حوالے سے منقول ہے ۔