مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التوبة— توبہ کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ يَسْتَغْفِرُ وَيَتُوبُ كُلَّمَا أَذْنَبَ . باب: جو شخص ، جب بھی گناہ کرے ، تو استغفار اور توبہ کرے ، اس کے بارے میں جو منقول ہے
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ : أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَحَدُنَا يُذْنِبُ ، قَالَ : " يُكْتَبُ عَلَيْهِ " . قَالَ : ثُمَّ يَسْتَغْفِرُ مِنْهُ وَيَتُوبُ ، قَالَ : " يُغْفَرُ لَهُ وَيُتَابُ عَلَيْهِ " . قَالَ : فَيَعُودُ فَيُذْنِبُ ، قَالَ : " فَيُكْتَبُ عَلَيْهِ " . قَالَ : ثُمَّ يَسْتَغْفِرُ مِنْهُ وَيَتُوبُ ، قَالَ : " يُغْفَرُ لَهُ وَيُتَابُ عَلَيْهِ ، وَلَا يَمَلُّ اللَّهُ حَتَّى تَمَلُّوا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم میں سے کوئی ایک شخص گناہ کا ارتکاب کر لیتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ ( گناہ ) اس کے خلاف نوٹ کیا جائے گا ، اس شخص نے دریافت کیا : پھر وہ اس سے مغفرت طلب کرتا ہے ، اور توبہ کرتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اُس کی مغفرت ہو جائے گی ، اور اس کی توبہ قبول ہو گی ۔ اس شخص نے دریافت کیا : اگر وہ شخص دوبارہ اس گناہ کا ارتکاب کرتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ اس کے خلاف نوٹ کیا جائے گا ، اس شخص نے کہا: اگر وہ پھر اس سے مغفرت طلب کرے اور توبہ کر لے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کی مغفرت ہو جائے گی ، اور اس کی توبہ قبول ہو گی ، اللہ تعالیٰ تھکتا نہیں ہے ( اس کا بامحاور ہ مفہوم یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ کا فضل تم سے منقطع نہیں ہوتا ہے ) تم لوگ اُکتاہٹ کا شکار ہو جاتے ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔