کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: جو شخص ، جب بھی گناہ کرے ، تو استغفار اور توبہ کرے ، اس کے بارے میں جو منقول ہے
حدیث نمبر: 17529
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يُحِبُّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ الْمُفَتَّنَ التَّوَّابَ " . رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ ایسے مؤمن بندے کو پسند کرتا ہے جو آزمائش کا شکار ہو ( یعنی گناہ کا مرتکب ہو جائے ) اور بہت زیادہ توبہ کرتا رہے ۔ “
یہ روایت عبداللہ اور ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت عبداللہ اور ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 17530
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ : أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَحَدُنَا يُذْنِبُ ، قَالَ : " يُكْتَبُ عَلَيْهِ " . قَالَ : ثُمَّ يَسْتَغْفِرُ مِنْهُ وَيَتُوبُ ، قَالَ : " يُغْفَرُ لَهُ وَيُتَابُ عَلَيْهِ " . قَالَ : فَيَعُودُ فَيُذْنِبُ ، قَالَ : " فَيُكْتَبُ عَلَيْهِ " . قَالَ : ثُمَّ يَسْتَغْفِرُ مِنْهُ وَيَتُوبُ ، قَالَ : " يُغْفَرُ لَهُ وَيُتَابُ عَلَيْهِ ، وَلَا يَمَلُّ اللَّهُ حَتَّى تَمَلُّوا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم میں سے کوئی ایک شخص گناہ کا ارتکاب کر لیتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ ( گناہ ) اس کے خلاف نوٹ کیا جائے گا ، اس شخص نے دریافت کیا : پھر وہ اس سے مغفرت طلب کرتا ہے ، اور توبہ کرتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اُس کی مغفرت ہو جائے گی ، اور اس کی توبہ قبول ہو گی ۔ اس شخص نے دریافت کیا : اگر وہ شخص دوبارہ اس گناہ کا ارتکاب کرتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ اس کے خلاف نوٹ کیا جائے گا ، اس شخص نے کہا: اگر وہ پھر اس سے مغفرت طلب کرے اور توبہ کر لے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کی مغفرت ہو جائے گی ، اور اس کی توبہ قبول ہو گی ، اللہ تعالیٰ تھکتا نہیں ہے ( اس کا بامحاور ہ مفہوم یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ کا فضل تم سے منقطع نہیں ہوتا ہے ) تم لوگ اُکتاہٹ کا شکار ہو جاتے ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 17531
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : جَاءَ حَبِيبُ بْنُ الْحَارِثِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي رَجُلٌ مِقْرَافٌ . قَالَ : " فَتُبْ إِلَى اللَّهِ يَا حَبِيبُ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَتُوبُ ثُمَّ أَعُودُ . قَالَ : " فَكُلَّمَا أَذْنَبْتَ فَتُبْ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِذًا تَكْثُرُ ذُنُوبِي ، قَالَ : " عَفْوُ اللَّهِ أَكْبَرُ مِنْ ذُنُوبِكَ يَا حَبِيبُ بْنَ الْحَارِثِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ نُوحُ بْنُ ذَكْوَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : حبیب بن حارث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں گناہ گار شخص ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے حبیب ! تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرو ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں توبہ کرتا ہوں ، پھر وہی گناہ کر لیتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جب بھی گناہ کا ارتکاب کرو ، تم توبہ بھی کر لو ! اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایسی صورت میں ، تو میرے گناہ زیادہ ہو جائیں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے حبیب بن حارث ! اللہ تعالیٰ کا معاف کرنا ، تمہارے گناہوں سے زیادہ بڑا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نوح بن ذکوان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نوح بن ذکوان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 17532
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَذْنَبْتُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا أَذْنَبْتَ فَاسْتَغْفِرْ رَبَّكَ " . قَالَ : فَإِنِّي أَسْتَغْفِرُهُ ثُمَّ أَعُودُ فَأُذْنِبُ . قَالَ : " فَإِذَا أَذْنَبْتَ فَعُدْ فَاسْتَغْفِرْ رَبَّكَ " . قَالَ : فَإِنِّي أَسْتَغْفِرُ ثُمَّ أَعُودُ فَأُذْنِبُ . قَالَ : "إِذَا أَذْنَبْتَ فَعُدْ فَاسْتَغْفِرْ رَبَّكَ " . فَقَالَهَا فِي الرَّابِعَةِ ، فَقَالَ : "إِذَا أَذْنَبْتَ فَاسْتَغْفِرْ رَبَّكَ حَتَّى يَكُونَ الشَّيْطَانُ هُوَ الْمَخْسُورَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ بَشَّارُ بْنُ الْحَكَمِ الضَّبِّيُّ ، ضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : أَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ الِاسْتِغْفَارِ بَعْدَ هَذَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں گناہ کا ارتکاب کرتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم گناہ کا ارتکاب کرو تو اپنے پروردگار سے مغفرت مانگ لو ! اس نے کہا: میں اس سے مغفرت مانگتا ہوں اور پھر گناہ کا ارتکاب کر لیتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم گناہ کا ارتکاب کرو تو دوبارہ اپنے پروردگار سے مغفرت مانگ لینا ، اس نے کہا: میں مغفرت مانگتا ہوں ، پھر گناہ کا ارتکاب کر لیتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم پھر گناہ کا ارتکاب کرو ، تو پھر اپنے پروردگار سے مغفرت مانگ لینا ، یہ مکالمہ چوتھی مرتبہ ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم گناہ کا ارتکاب کرو ، تو اپنے پروردگار سے مغفرت مانگ لو ( یعنی ہمیشہ ایسا کرتے رہو ) تاکہ شیطان جو ہے ، وہ خسارے کا شکار ہونے والا ہو ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بشار بن حکم ضبی ہے جسے ایک سے زیادہ افراد نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : مجھے یہ امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : استغفار کے بارے میں کچھ احادیث اس کے بعد بھی آئیں گی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بشار بن حکم ضبی ہے جسے ایک سے زیادہ افراد نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : مجھے یہ امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : استغفار کے بارے میں کچھ احادیث اس کے بعد بھی آئیں گی ۔