مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التوبة— توبہ کے بارے میں روایات
بَابُ إِلَى مَتَى تُقْبَلُ تَوْبَةُ الْعَبْدِ . باب: بندے کی توبہ کب تک قبول ہوتی ہے ؟
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَيْلَمَانِيِّ قَالَ : اجْتَمَعَ أَرْبَعَةٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ أَحَدُهُمْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - قَبِلَ تَوْبَةَ عَبْدِهِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِيَوْمٍ " . فَقَالَ الثَّانِي : أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ ! قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : وَأَنَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يَقْبَلُ تَوْبَةَ عَبْدِهِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِنِصْفِ يَوْمٍ " . فَقَالَ الثَّالِثُ : أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ ! قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : وَأَنَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يَقْبَلُ تَوْبَةَ عَبْدِهِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِضَحْوَةٍ " . فَقَالَ الرَّابِعُ : أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ ! قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : وَأَنَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يَقْبَلُ تَوْبَةَ عَبْدِهِ مَا لَمْ يُغَرْغِرْ بِنَفْسِهِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤عبدالرحمن بیلمانی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے چار افراد اکٹھے ہوئے : اُن میں سے ایک صاحب نے یہ بات بیان کی : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ اس کے مرنے سے ایک دن پہلے بھی قبول کر لیتا ہے ۔ “ دوسرے صحابی نے دریافت کیا : کیا آپ نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو دوسرے صحابی نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ ، اُس کے مرنے سے نصف دن پہلے بھی قبول کر لیتا ہے ۔ “ تیسرے صحابی نے دریافت کیا : کیا آپ نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو ان تیسرے صحابی نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ اُس کے مرنے سے ، اتنا پہلے بھی قبول کر لیتا ہے ( جتنا سورج نکلنے کے بعد ) دن چڑھے کا وقت ہوتا ہے ۔ “ چوتھے صحابی نے دریافت کیا : کیا آپ نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو ان چوتھے صحابی نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ اُس وقت بھی قبول کر لیتا ہے جب اُس پر نزع کا عالم طاری نہ ہوا ہو ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عبدالرحمن کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔