مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التوبة— توبہ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ خَافَ مِنْ ذُنُوبِهِ . باب: اس شخص کا بیان ، جو اپنے گناہوں سے خوفزدہ ہو
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - أَنَّ رَجُلًا لَمْ يَعْمَلْ مِنَ الْخَيْرِ شَيْئًا قَطُّ إِلَّا التَّوْحِيدَ ، فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ لِأَهْلِهِ : إِذَا أَنَا مُتُّ فَخُذُونِي فَأَحْرِقُونِي حَتَّى تَدَعُونِي حُمَمَةً ، ثُمَّ اطْحَنُونِي ، ثُمَّ ذُرُّونِي فِي الْبَحْرِ فِي يَوْمٍ رَاحٍ ، قَالَ : فَفَعَلُوا بِهِ ذَلِكَ ، فَإِذَا هُوَ فِي قَبْضَةِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَقَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ لَهُ : مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ ؟ قَالَ : مَخَافَتُكَ ، قَالَ : فَغَفَرَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لَهُ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” ایک شخص تھا ، جس نے کبھی کوئی بھلائی نہیں کی تھی ، البتہ وہ توحید کا قائل تھا ، جب اس کا آخری وقت قریب آیا ، تو اس نے اپنے اہل خانہ سے کہا: جب میں مر جاؤں ، تو تم میری لاش لے کر مجھے جلا دینا اور مجھے کوئلہ بنا دینا ، پھر مجھے پیس دینا اور پھر جس دن تیز ہوا چل رہی ہو اس دن مجھے دریا میں بہا دینا ، اس کے گھر والوں نے ایسا ہی کیا ، پھر وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہوا ، تو اللہ تعالیٰ نے اس سے دریافت کیا : تم نے جو کیا تھا ، ایسا کیوں کیا ؟ اس نے جواب دیا : تیرے خوف کی وجہ سے ، تو اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت کر دی ۔ “