حدیث نمبر: 17486
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : لَا تَعْجَلُوا بِمَدْحِ النَّاسِ وَلَا بِذَمِّهِمْ ; فَإِنَّكَ أَوْ لَعَلَّكَ أَنْ تَرَى مِنْ أَخِيكَ شَيْئًا الْيَوْمَ يُعْجِبُكَ لَعَلَّهُ أَنْ يَسُوءَكَ غَدًا ، وَلَعَلَّكَ أَنْ تَرَى مِنْهُ الْيَوْمَ شَيْئًا يَسُوءُكَ لَعَلَّهُ يُعْجِبُكَ غَدًا ، وَإِنَّ النَّاسَ يَغْتَرُّونَ ، وَإِنَّمَا يَغْفِرُ اللَّهُ الذُّنُوبَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَاللَّهُ أَرْحَمُ بِعَبْدِهِ يَوْمَ يَلْقَاهُ مِنْ أُمِّ وَاحِدٍ فَرَشَتْ لَهُ بِأَرْضِ فَيْءٍ ثُمَّ لَمَسَتْ ، فَإِنْ كَانَتْ شَوْكَةٌ كَانَتْ بِهَا قَبْلَهُ ، وَإِنْ كَانَتْ لَدْغَةٌ كَانَتْ بِهَا قَبْلَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ . قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي بَابِ الِاسْتِغْفَارِ لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” لوگوں کی تعریف کرتے ہوئے ، یا اُن کی مذمت کرتے ہوئے جلدبازی سے کام نہ لو ! کیونکہ یہ ہو سکتا ہے کہ آج تمہیں اپنے بھائی کی طرف سے کوئی ایسی چیز نظر آ رہی ہو ، جو تمہیں اچھی لگ رہی ہو ، اور یہ ہو سکتا ہے کہ کل وہ تمہیں بری لگے ، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تمہیں آج اس کی طرف سے کوئی چیز بری لگ رہی ہو ، اور کل کو وہ اچھی لگنے لگے ، لوگ غلط فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ گناہوں کی مغفرت کر دے گا ، جب بندہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر اس سے زیادہ مہربان ہو گا ، جتنا کسی شخص کی ماں مہربان ہوتی ہے ، جو زمین پر اپنے بچے کے لیے بچھونا بچھاتی ہے ، اور پھر اس پر ہاتھ پھیر کر دیکھتی ہے کہ اگر اس میں کوئی کانٹا ہو ، تو وہ بچے سے پہلے اُس کے ہاتھ پہ لگ جائے ، اور اگر کوئی ڈنک مارنے والا جانور ہو ، تو وہ بچے سے پہلے اُسے ڈنک مار لے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس بارے میں کچھ احادیث آگے چل کر کبیرہ گناہ کے مرتکب افراد کے لیے دعائے مغفرت کرنے سے متعلق باب میں آئیں گی ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17486
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (8929)»