حدیث نمبر: 1745
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَيْضًا قَالَ : احْتَبَسَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ لَيْلَةٍ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِهِ أَوْ بَعْضِ نِسَائِهِ ، فَلَمْ يَأْتِنَا لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ حَتَّى ذَهَبَ اللَّيْلُ ، فَجَاءَنَا وَمِنَّا الْمُصَلِّي وَمِنَّا الْمُضْطَجِعُ ، فَبَشَّرَنَا وَقَالَ : " إِنَّهُ لَا يُصَلِّي هَذِهِ الصَّلَاةَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ " فَنَزَلَتْ ( لَيْسُوا سَوَاءً . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ ، لَيْسَ فِيهِمْ غَيْرُ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، وَهُوَ مُخْتَلَفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر ٹھہرے رہے ( یہاں راوی کو ایک لفظ کے بارے میں شک ہے ) آپ عشاء کی نماز کی ادائیگی کے لئے ہمارے پاس تشریف نہیں لائے یہاں تک کہ رات کا ایک حصہ گزر گیا تو آپ ہمارے پاس تشریف لائے ہم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا تھا کوئی لیٹا ہوا تھا آپ نے ہمیں خوشخبری دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : اس وقت میں اہل کتاب میں سے کسی نے بھی نماز ادا نہیں کی تو یہ آیت نازل ہو گئی : ” وہ برابر نہیں ہیں “ ۔
امام أحمد کے رجال ” ثقہ “ ہیں عاصم بن ابونجود کے علاوہ اور کوئی غیر ثقہ نہیں ہے ، اس راوی سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے امام طبرانی کی سند میں ایک راوای عبیداللہ بن زحر ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1745
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔