مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ وَقْتِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ . باب: عشاء کی نماز کا وقت
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةً صَلَاةَ الْعِشَاءِ ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَإِذَا النَّاسُ يَنْتَظِرُونَ الصَّلَاةَ ، فَقَالَ : " أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِ الْأَدْيَانِ أَحَدٌ يَذْكُرُ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - هَذِهِ السَّاعَةَ غَيْرَكُمْ " . قَالَ : وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ ( لَيْسُوا سَوَاءً مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ أُمَّةٌ قَائِمَةٌ يَتْلُونَ ) حَتَّى بَلَغَ ( وَمَا يَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ يُكْفَرُوهُ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالْمُتَّقِينَ ) . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز مؤخر دی پھر آپ مسجد میں تشریف لائے تو لوگ مسجد میں نماز کا انتظار کر رہے تھے آپ نے ارشاد فرمایا : تمہارے علاوہ اور کسی بھی دین کے پیرو کار لوگ اس وقت میں اللہ کا ذکر نہیں کرتے ہیں راوی بیان کرتے ہیں : تو یہ آیت نازل ہوئی : ” وہ لوگ برابر نہیں ہیں ، اہل کتاب میں سے ایک امت ہے ، جو کھڑی ہوتی ہے ، اور وہ تلاوت کرتے ہیں “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ آیت یہاں تک ہے : وہ لوگ جو بھی بھلائی کریں گے ، تو اس کا انکار نہیں کیا جائے گا ، اور اللہ تعالیٰ پرہیزگار لوگوں کے بارے میں علم رکھنے والا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔