مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدعية— دعاؤں کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا خَافَ سُلْطَانًا . باب: جب آدمی کو حکمران کی طرف سے اندیشہ ہو تو وہ کیا پڑھے ؟
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : إِذَا أَتَيْتَ سُلْطَانًا مَهِيبًا تَخَافُ أَنْ يَسْطُوَ بِكَ فَقُلِ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ مِنْ خَلْقِهِ جَمِيعًا ، اللَّهُ أَعَزُّ مِمَّا أَخَافُ وَأَحْذَرُ ، أَعُوذُ بِاللَّهِ الْمُمْسِكِ السَّمَاوَاتِ السَّبْعَ أَنْ يَقَعْنَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ مِنْ شَرِّ عَبْدِكَ فُلَانٍ ، وَجُنُودِهِ ، وَأَتْبَاعِهِ ، وَأَشْيَاعِهِ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ ، إِلَهِي ، كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّهِمْ ، جَلَّ ثَنَاؤُكَ ، وَعَزَّ جَارُكَ ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب تم کسی ایسے حکمران کے پاس جاؤ جس کے بارے میں تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ وہ تمہارے خلاف زیادتی کر سکتا ہے ، تو تم یہ پڑھو : «اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ مِنْ خَلْقِهِ جَمِيعًا ، اللَّهُ أَعَزُّ مِمَّا أَخَافُ وَأَحْذَرُ ، أَعُوذُ بِاللَّهِ الْمُمْسِكِ السَّمَاوَاتِ السَّبْعَ أَنْ يَقَعْنَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ مِنْ شَرِّ عَبْدِكَ فُلَانٍ ، وَجُنُودِهِ ، وَأَتْبَاعِهِ ، وَأَشْيَاعِهِ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ ، إِلَهِي ، كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّهِمْ ، جَلَّ ثَنَاؤُكَ ، وَعَزَّ جَارُكَ ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ»
” اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے ، اللہ تعالیٰ اپنی ساری مخلوق سے زیادہ بڑا ہے ، اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ زبردست ہے جس سے مجھے خوف ہے اور جس سے میں بچنا چاہتا ہوں ، میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں ، جس نے سات آسمانوں کو اس بات سے روکا ہوا ہے کہ وہ زمین پر گر جائیں ، البتہ اس کے اذن کا معاملہ مختلف ہے ( اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ) تیرے فلاں بندے اور اس کے لشکروں اور اس کے پیروکاروں اور اس کے ساتھیوں سے ، جن کا تعلق جنات اور انسانوں سے ہو ، اے اللہ ! تو ان کے شر سے مجھے محفوظ رکھنے والا ہو جا ! تیری ثناء جلیل القدر ہے ، تیری پناہ زبردست ہے ، تیرا اسم برکت والا ہے اور تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔