حدیث نمبر: 17446
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا تَخَوَّفَ أَحَدُكُمْ سُلْطَانًا فَلْيَقُلِ : اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ - يَعْنِي الَّذِي يُرِيدُ - وَشَرِّ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَأَتْبَاعِهِمْ ، أَنْ يُفْرِطَ عَلَيَّ أَحَدٌ مِنْهُمْ ، عَزَّ جَارُكَ ، وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ جُنَادَةَ بْنِ سَلْمٍ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْأَذْكَارِ هَذَا الْحَدِيثُ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب تم میں سے کسی ایک کو حکمران کے حوالے سے اندیشہ ہو تو اسے یہ پڑھنا چاہیے : «اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ - يَعْنِي الَّذِي يُرِيدُ - وَشَرِّ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَأَتْبَاعِهِمْ ، أَنْ يُفْرِطَ عَلَيَّ أَحَدٌ مِنْهُمْ ، عَزَّ جَارُكَ ، وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ»
” اے اللہ ! سات آسمانوں کے پروردگار ! عظیم عرش کے پروردگار ! تو فلاں بن فلاں کے شر سے مجھے بچانے والا ہو جا ، راوی کہتے ہیں : یعنی یہاں آدمی متعلقہ فرد کا نام لے گا ، اور جنات اور انسانوں اور ان کے پیروکاروں کے نشر سے مجھے بچا لے کہ ان میں سے کوئی ایک میرے خلاف زیادتی کرے ، تیری پناہ زبردست ہے ، تیری تعریف بلند و برتر ہے ، اور تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف جنادہ بن سلم کا معاملہ مختلف ہے ، اسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے ” کتاب الاذکار “ میں
یہ روایت اور اس کے علاوہ دیگر روایات گزر چکی ہیں ( یعنی ایسی روایات جو اس باب کے مضمون سے تعلق رکھتی ہیں ) ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17446
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن