حدیث نمبر: 17427
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أُعَلِّمُكَ الْكَلِمَاتِ الَّتِي تَكَلَّمَ بِهَا مُوسَى حِينَ جَاوَزَ الْبَحْرَ بِبَنِي إِسْرَائِيلَ ؟ " ، فَقُلْنَا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " قُولُوا : اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ ، وَإِلَيْكَ الْمُشْتَكَى ، وَأَنْتَ الْمُسْتَعَانُ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ " ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَمَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ قَالَ شَقِيقٌ : فَمَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ . ¤ قَالَ الْأَعْمَشُ : مَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ شَقِيقٍ . ¤ قَالَ الْأَعْمَشُ : فَأَتَانِي آتٍ فِي مَنَامِي فَقَالَ : يَا سُلَيْمَانُ ، زِدْ فِي هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ : وَنَسْتَعِينُكَ عَلَى فَسَادٍ فِينَا ، وَنَسْأَلُكَ صَلَاحَ أَمْرِنَا كُلِّهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں اُن کلمات کی تعلیم نہ دوں ؟ جو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اس وقت پڑھے تھے جب وہ بنی اسرائیل کے ساتھ دریا کو عبور کر رہے تھے ، ہم نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ یہ پڑھو : «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ ، وَإِلَيْكَ الْمُشْتَكَى ، وَأَنْتَ الْمُسْتَعَانُ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ»
” اے اللہ ! حمد تیرے ہی لیے مخصوص ہے اور تیری بارگاہ میں شکایت کی جا سکتی ہے ، تجھ سے مدد مانگی جا سکتی ہے ، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا ، جو بلند و برتر اور عظمت والا ہے ۔ “
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب سے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ کلمات سنے ہیں ، انھیں کبھی ترک نہیں کیا ۔ شقیق بیان کرتے ہیں : جب سے میں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ کلمات سنے ہیں ، میں نے انھیں کبھی ترک نہیں کیا ۔ اعمش بیان کرتے ہیں : جب سے میں نے شقیق کی زبانی یہ کلمات سنے ہیں ، میں نے انھیں کبھی ترک نہیں کیا ۔
اعمش بیان کرتے ہیں : خواب میں کوئی شخص میرے پاس آیا اور بولا: اے سلیمان ! ان کلمات میں ان الفاظ کا اضافہ کر لو : «وَنَسْتَعِينُكَ عَلَى فَسَادٍ فِينَا ، وَنَسْأَلُكَ صَلَاحَ أَمْرِنَا كُلِّهِ»
” اور ہم اپنے اندر موجود فساد کے بارے میں ، تجھ سے مدد مانگتے ہیں اور اپنے ہر معاملے کی بہتری کا تجھ سے سوال کرتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17427
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (339)»