مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدعية— دعاؤں کے بارے میں روایات
بَابُ الْأَدْعِيَةِ الْمَأْثُورَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّتِي دَعَا بِهَا ، وَعَلَّمَهَا . باب: نبی اکرم ﷺ سے منقول دعاؤں کا بیان ، جو آپ مانگا کرتے تھے ، یا جن کی آپ نے تعلیم دی
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ قَالَ : اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، إِنِّي أَعْهَدُ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا أَنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكُ ; فَإِنَّكَ إِنْ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي تُقَرِّبْنِي إِلَى الشَّرِّ ، وَتُبَاعِدْنِي مِنَ الْخَيْرِ ، وَإِنِّي لَا أَثِقُ إِلَّا بِرَحْمَتِكَ ; فَاجْعَلْ لِي عِنْدَكَ عَهْدًا تُوَفِّينِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ ، إِلَّا قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِمَلَائِكَتِهِ : إِنَّ عَبْدِي عَهِدَ عِنْدِي عَهْدًا فَأَوْفُوهُ إِيَّاهُ ; فَيُدْخِلُهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - الْجَنَّةَ " . ¤ قَالَ سُهَيْلٌ : فَأَخْبَرْتُ الْقَاسِمَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : أَنَّ عَوْنًا أَخْبَرَنِي بِكَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ : مَا فِي أَهْلِنَا جَارِيَةٌ إِلَّا وَهِيَ تَقُولُ هَذَا فِي خِدْرِهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ عَوْنَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : جو شخص یہ پڑھتا ہے : «اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، إِنِّي أَعْهَدُ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا أَنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكُ ; فَإِنَّكَ إِنْ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي تُقَرِّبْنِي إِلَى الشَّرِّ ، وَتُبَاعِدْنِي مِنَ الْخَيْرِ ، وَإِنِّي لَا أَثِقُ إِلَّا بِرَحْمَتِكَ ; فَاجْعَلْ لِي عِنْدَكَ عَهْدًا تُوَفِّينِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ»
” اے اللہ ! اے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے ! غیب اور شہادت کا علم رکھنے والے ! میں اس دنیاوی زندگی میں ، تیرے سامنے یہ عہد کرتا ہوں اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف تو ہی معبود ہے ، تیرا کوئی شریک نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں ، اگر تو مجھے میرے نفس کے سپرد کر دے تو ، تُو مجھے برائی کے قریب کر دے گا اور بھلائی سے دور کر دے گا ، میں صرف تیری رحمت پر بھروسہ رکھتا ہوں ، تو اپنی بارگاہ میں میرے لئے ایک عہد مقرر کر دے ، جو تو قیامت کے دن مجھے عطا کرنا ، بے شک تو وعدے کے خلاف نہیں کرتا ہے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ” تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرشتوں سے یہ فرمائے گا : میرے بندے نے میرے ساتھ عہد کیا تھا ، تو تم اسے پورا بدلہ دو ! تو اللہ تعالیٰ اس بندے کو جنت میں داخل کر دے گا ۔ “
سہیل نامی راوی بیان کرتے ہیں : میں نے قاسم بن عبدالرحمن کو یہ بات بتائی کہ عون نامی راوی نے مجھے اس اس طرح کی روایت بیان کی ہے ، تو قاسم نے کہا: ہمارے گھر کی پردہ نشین لڑکیاں بھی پردے میں رہتے ہوئے یہ دعا پڑھتی ہیں ( یعنی انہوں نے پردے میں رہتے ہوئے بھی یہ دعا سیکھی ہوئی ہے ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ عون بن عبداللہ نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔