حدیث نمبر: 17356
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : كَانَ عَامَّةُ دُعَاءِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا أَخْطَأْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُ ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ ، وَمَا جَهِلْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَوْنٍ الْعُقَيْلِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیادہ تر دعا یہ ہوتی تھی : «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا أَخْطَأْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُ ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ ، وَمَا جَهِلْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُ»
” اے اللہ ! میں نے جو خطا کی ، جو جان بوجھ کے کیا ، جو پوشیدہ طور پر کیا ، جو اعلانیہ طور پر کیا ، جو لاعلمی میں کیا ، جو جان بوجھ کر کیا ، ان ( سب ) کے حوالے سے میری مغفرت کر دے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام بزار اور امام طبرانی نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، ان کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف عون عقیلی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17356
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3199) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1201/18) اخرجه احمد فى المسند (437/4)»