حدیث نمبر: 1733
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كُنَّا نُصْلِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ نَأْتِي بَنِي سَلَمَةَ وَنَحْنُ نُبْصِرُ مَوَاقِعَ نَبْلِنَا فِي بَنِي سَلَمَةَ أَقْصَى الْمَدِينَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِيهِ : إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ ، فَيُصَلِّي مَعَهُ رِجَالٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ ، ثُمَّ يَنْصَرِفُونَ إِلَى بَنِي سَلَمَةَ وَهُمْ يُبْصِرُونَ مَوَاقِعَ النَّبْلِ . ¤ وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَاضِي ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَالْبُخَارِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُمْ ، وَقَالَ زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ : كَانَ صَدُوقًا وَلَمْ يَكُنْ مِنْ فُرْسَانِ الْحَدِيثِ ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : حَسَنُ الْحَدِيثِ ، يُكْتَبُ حَدِيثُهُ مَعَ ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں مغرب کی نماز ادا کر لیتے تھے پھر ہم بنو سلمہ کے محلے میں آتے تھے تو بنو سلمہ کے محلے میں جو مدینہ کا منورہ کا سب سے دور کا علاقہ تھا وہاں پہنچ کر ہم اپنے تیروں کے گرنے کی جگہ دیکھ سکتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز ادا کر لیتے تھے آپ کی اقتداء میں بنو سلمہ سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد نماز ادا کر لیتے تھے پھر وہ بنوسلہ کے محلے کی طرف واپس چلے جاتے تھے تو وہ تیر کے گرنے کی جگہ دیکھ سکتے تھے اس روایت کی سند میں ایک راوی عمر بن محمد قاضی ہے ، جسے یحیی بن معین امام بخاری رحمہ اللہ امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے زکریا بن یحیی ساجی بیان کرتے ہیں : یہ صدوق تھا تاہم علم حدیث کے ماہرین میں سے نہیں ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں : یہ حسن الحدیث ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث کو اس کے ضعیف ہونے کے باوجود نوٹ کیا جائے گا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1733
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف