مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدعية— دعاؤں کے بارے میں روایات
بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الدُّعَاءِ وَغَيْرِهِ . باب: دعا میں ، اور اس کے علاوہ ، نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجنا
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيَّ عَشْرًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ مِائَةً ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيَّ مِائَةً كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بَرَاءَةً مِنَ النِّفَاقِ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ، وَبَرَاءَةً مِنَ النَّارِ ، وَأَنْزَلَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ الشُّهَدَاءِ " . قُلْتُ : لَهُ عِنْدَ النَّسَائِيِّ : " مَنْ صَلَّى عَلَيَّ وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَالِمِ بْنِ شِبْلٍ الْهُجَيْمِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس پر دس رحمتیں نازل کرتا ہے ، اور جو شخص مجھ پر دس مرتبہ درود بھیجتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس پر 100 رحمتیں نازل کرتا ہے ، اور جو شخص مجھ پر ایک سو مرتبہ درود بھیجتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان منافقت سے بری ہونا اور جہنم سے بری ہونا لکھ دیتا ہے ، اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس شخص کو شہداء کے ساتھ ٹھہرائے گا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے امام نسائی رحمہ اللہ نے
یہ روایت نقل کی ہے : ” جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا ، اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ رحمت نازل کرے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن سالم بن شبل ہجیمی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔