حدیث نمبر: 17241
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ : أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَلْعُونٌ مَنْ سَأَلَ بِوَجْهِ اللَّهِ ، وَمَلْعُونٌ مَنْ سُئِلَ بِوَجْهِ اللَّهِ ، ثُمَّ مَنَعَ سَائِلَهُ مَا لَمْ يَسْأَلْ هَجْرًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ : يَحْيَى بْنِ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثٌ فِي فَضْلِ الْخَضِرِ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - وَشَيْءٌ فِي الصَّدَقَةِ فِي كِتَابِ الزَّكَاةِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” وہ شخص ملعون ہے جو اللہ کی ذات کے وسیلے سے مانگتا ہے ، اور وہ شخص ملعون ہے جس سے اللہ کے وسیلے سے مانگا جائے اور پھر وہ مانگنے والے کو منع کر دے ، جبکہ اُس نے کوئی بری چیز نہ مانگی ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد یحیی بن عثمان بن صالح کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ثقہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے سیدنا خضر علیہ السلام کی فضیلت کے بارے میں ایک حدیث گزر چکی ہے اور کتاب الزکوۃ میں صدقہ کرنے سے متعلق کچھ روایات گزر چکی ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17241
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف