حدیث نمبر: 17233
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : بَيْنَا أَنَا أَطُوفُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِفُلَانِ بْنِ فُلَانٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا هَذَا ؟ " . قَالَ : أَمَرَنِي رَجُلٌ أَنْ أَدْعُوَ لَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ غُفِرَ لِصَاحِبِكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْحَارِثُ بْنُ عِمْرَانَ الْجَعْفَرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ طواف کر رہا تھا ، اسی دوران آپ نے کسی شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا : اے اللہ فلاں بن فلاں کی مغفرت کر دے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اس کی کیا وجہ ہے ؟ اس نے بتایا : ایک شخص نے مجھے یہ ہدایت کی تھی کہ میں اس کے لئے دعا کروں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے ساتھی کی مغفرت ہو گئی ہے ( یہاں مراد یہ ہے : کیونکہ تم نے اس کی غیر موجودگی میں ، اس کے لئے دعا کی ہے ، اس لیے یہ دعا قبول ہوئی ہے ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حارث بن عمران جعفری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17233
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12299)»