حدیث نمبر: 17218
عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ : يَا عِبَادِي ، كُلُّكُمْ ضَالٌّ إِلَّا مَنْ هَدَيْتُ ، وَضَعِيفٌ إِلَّا مَنْ قَوَّيْتُ ، وَفَقِيرٌ إِلَّا مَنْ أَغْنَيْتُ ، فَسَلُونِي أُعْطِكُمْ ، فَلَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ ، وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ ، وَحَيَّكُمْ وَمَيِّتَكُمْ ، وَرَطْبَكُمْ وَيَابِسَكُمُ اجْتَمَعُوا عَلَى قَلْبِ أَتْقَى عَبْدٍ مِنْ عِبَادِي مَا زَادَ فِي مُلْكِي جَنَاحَ بَعُوضَةٍ . وَلَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ ، وَجِنَّكُمْ وَإِنْسَكُمْ ، وَحَيَّكُمْ وَمَيِّتَكُمْ ، وَرَطْبَكُمْ وَيَابِسَكُمُ اجْتَمَعُوا عَلَى قَلْبِ أَفْجَرِ عَبْدٍ هُوَ لِي مَا نَقَصُوا مِنْ مُلْكِي جَنَاحَ بَعُوضَةٍ ، ذَلِكَ بِأَنِّي وَاحِدٌ ، عَذَابِي كَلَامٌ ، وَرَحْمَتِي كَلَامٌ ، فَمَنْ أَيْقَنَ بِقُدْرَتِي عَلَى الْمَغْفِرَةِ فَلَمْ يَتَعَاظَمْ فِي نَفْسِي أَنْ أَغْفِرَ لَهُ ذُنُوبَهُ وَإِنْ كَثُرَتْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ هَارُونَ بْنِ عَنْتَرَةَ ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اے میرے بندو ! تم سب گمراہ ہو ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جسے میں نے ہدایت نصیب کی ہو ( اور تم سب ) کمزور ہو ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جسے میں نے طاقت دی ہو ( اور تم سب ) غریب ہو ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جسے میں نے خوشحال کیا ہو ، تو تم مجھ سے مانگو ! میں تمہیں عطا کروں گا ، اگر تمہارے سب پہلے والے اور سب بعد والے ، تمام انسان اور تمام جنات ، تمام زندہ لوگ اور تمام مرحومین ، تمام تر اور تمام خشک اکٹھے ہو کر میرے بندوں میں سے سب سے زیادہ پرہیزگار بندے کے قلب کے مطابق ہو جائیں ، تو بھی یہ چیز میری بادشاہی میں ایک مکھی کے پر جتنا اضافہ نہیں کرے گی ۔ اور اگر تمہارے سب پہلے والے اور سب بعد والے ، تمام انسان اور تمام جنات ، تمام زندہ لوگ اور تمام مرحومین ، تمام تر اور تمام خشک اکٹھے ہو کر میرے سب سے زیادہ گناہگار بندے کے قلب کے مطابق ہو جائیں ، تو بھی یہ چیز میری بادشاہی میں ایک مکھی کے پر جتنی کمی نہیں کرے گی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں ایک ہوں ، میرا عذاب ، کلام ہے ، اور میری رحمت ، کلام ہے ، جو شخص مغفرت کے بارے میں میری قدرت کا یقین رکھتا ہو ، تو میرے لیے یہ بڑی بات نہیں ہے کہ میں اس کے گناہوں کی مغفرت کر دوں ، خواہ وہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن ہارون بن عنترہ ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17218
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف