مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدعية— دعاؤں کے بارے میں روایات
بَابُ الِاسْتِنْصَارِ بِالدُّعَاءِ . باب: دعا کے ذریعے مدد حاصل کرنا
عَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ - قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ قَاتَلْتُ شَيْئًا مِنْ قِتَالٍ ، ثُمَّ جِئْتُ مُسْرِعًا لِأَنْظُرَ مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجِئْتُ فَإِذَا هُوَ سَاجِدٌ يَقُولُ : " يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ ، يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ " . لَا يَزِيدُ عَلَيْهِمَا ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى الْقِتَالِ ، ثُمَّ جِئْتُ ، وَهُوَ سَاجِدٌ يَقُولُ ذَلِكَ ، ثُمَّ ذَهَبْتُ إِلَى الْقِتَالِ ثُمَّ رَجَعْتُ ، وَهُوَ يَقُولُ ذَلِكَ ، فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ كَذَلِكَ . ¤سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے موقع پر میں نے جنگ میں کچھ حصہ لیا ، پھر میں تیزی سے چلتا ہوا آیا تاکہ اس بات کا جائزہ لوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیا کر رہے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے اور یہ پڑھ رہے تھے : یا حی یا قیوم ، یا حی یا قیوم ، آپ اس کے علاوہ مزید کچھ نہیں کہہ رہے تھے ، میں واپس لڑائی کی طرف چلا گیا ، پھر جب میں آیا تو میں نے آپ کو پایا کہ آپ سجدے کی حالت میں تھے اور وہی کلمات پڑھ رہے تھے ، پھر میں لڑائی کی طرف واپس چلا گیا ، جب میں آیا تو آپ یہی پڑھ رہے تھے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو فتح نصیب کر دی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ، امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند روایت اسی طرح نقل کی ہے ۔