مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا انْفَلَتَتْ دَابَّتُهُ ، أَوْ أَرَادَ غَوْثًا ، أَوْ أَضَلَّ شَيْئًا . باب: جب کسی شخص کی سواری چلی جائے ، یا وہ کسی سے مدد حاصل کرنا چاہتا ہو یا اس کی کوئی چیز گم ہو جائے ، تو اسے کیا پڑھنا چاہیے ؟
عَنْ عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ ، عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا أَضَلَّ أَحَدُكُمْ شَيْئًا ، أَوْ أَرَادَ عَوْنًا ، وَهُوَ بِأَرْضٍ لَيْسَ بِهَا أَنِيسٌ فَلْيَقُلْ : يَا عِبَادَ اللَّهِ ، أَغِيثُونِي ; فَإِنَّ لِلَّهِ عِبَادًا لَا نَرَاهُمْ " . وَقَدْ جَرَّبَ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ ، إِلَّا أَنَّ زَيْدَ بْنَ عَلِيٍّ لَمْ يُدْرِكْ عُتْبَةَ . ¤سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب تم میں سے کسی ایک کی کوئی چیز گم ہو جائے ، یا وہ مدد حاصل کرنا چاہتا ہو ، اور وہ ایسی جگہ پر موجود ہو ، جہاں اس کا کوئی ساتھی نہ ہو ، تو اسے یہ کہنا چاہیے : اے اللہ کے بندو ! تم لوگ میری مدد کرو ، اے اللہ کے بندو ! تم لوگ میری مدد کرو ! ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) کیونکہ اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے بندے ہوتے ہیں ، جنہیں ہم دیکھ نہیں پاتے ہیں ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : یہ بات آزمائی گئی ہے ( یعنی ایسا کرنے کا فائدہ ہوتا ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اگرچہ اس کے بعض رجال میں ضعف پایا جاتا ہے ، اور یہ بات بھی ہے کہ زید بن علی نامی راوی نے سیدنا عتبہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔