حدیث نمبر: 17091
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : لَمْ يُرِدِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَفَرًا قَطُّ إِلَّا قَالَ حِينَ يَنْهَضُ مِنْ جُلُوسِهِ : " اللَّهُمَّ بِكَ انْتَشَرْتُ ، وَإِلَيْكَ تَوَجَّهْتُ ، وَبِكَ اعْتَصَمْتُ ، اللَّهُمَّ أَنْتَ ثِقَتِي ، وَأَنْتَ رَجَائِي ، اللَّهُمَّ اكْفِنِي مَا أَهَمَّنِي ، وَمَا لَا أَهْتَمُّ بِهِ ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي ، وَزَوِّدْنِي التَّقْوَى ، وَاغْفِرْ لِي ذَنْبِي ، وَوَجِّهْنِي لِلْخَيْرِ حَيْثُمَا تَوَجَّهْتُ " . [ قَالَ : ثُمَّ يَخْرُجُ ] ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ مُسَاوِرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی سفر کا ارادہ کرتے تھے تو جب آپ بیٹھنے سے ( یعنی روانگی کے لیے ) اُٹھتے تھے تو یہ پڑھتے تھے : «اللَّهُمَّ بِكَ انْتَشَرْتُ ، وَإِلَيْكَ تَوَجَّهْتُ ، وَبِكَ اعْتَصَمْتُ ، اللَّهُمَّ أَنْتَ ثِقَتِي ، وَأَنْتَ رَجَائِي ، اللَّهُمَّ اكْفِنِي مَا أَهَمَّنِي ، وَمَا لَا أَهْتَمُّ بِهِ ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي ، وَزَوِّدْنِي التَّقْوَى ، وَاغْفِرْ لِي ذَنْبِي ، وَوَجِّهْنِي لِلْخَيْرِ حَيْثُمَا تَوَجَّهْتُ»
” اے اللہ ! تیری مدد سے میں نکلنے لگا ہوں ، اور تیری طرف متوجہ ہو گیا ہوں ، اور تیری مدد چاہتا ہوں ، اے اللہ ! تو میرا قابل وثوق ہے ، تو میری امید ہے ، اے اللہ ! میرے لیے ان چیزوں کے حوالے سے کفایت کر لے ، جو میرے لئے ضروری ہیں ، اور ان سے بھی جو میرے لئے ضروری نہیں ہے ، اور جن کے بارے میں ، تو مجھ سے زیادہ بہتر جانتا ہے ، اور تو مجھے تقویٰ ، زاد سفر کے طور پر عطا فرما ، تو میرے گناہ کی مغفرت کر دے اور مجھے بھلائی کی طرف متوجہ کر دے ، خواہ میرا رخ کسی بھی سمت میں ہو ۔ “
راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد آپ روانہ ہو جاتے تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن مساور ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17091
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (2770)»