مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ وَقْتِ الظُّهْرِ . باب: ظہر کا وقت
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ أَبَا مَحْذُورَةَ أَذَّنَ بِالظُّهْرِ وَعُمَرُ بِمَكَّةَ ، وَرَفَعَ صَوْتَهُ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا أَبَا مَحْذُورَةَ ، أَمَا خِفْتَ أَنْ تَنْشَقَّ مُرَيْطَاؤُكَ ؟ قَالَ : أَحْبَبْتُ أَنْ أُسْمِعَكَ ، فَقَالَ عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَقُولُ : " أَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ، وَإِنَّ جَهَنَّمَ تَحَاجَّتْ حَتَّى أَكَلَ بَعْضُهَا بَعْضًا ، فَاسْتَأْذَنَتِ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - فِي نَفْسَيْنِ فَأَذِنَ لَهَا ، فَشِدَّةُ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ، وَشَدَّةُ الزَّمْهَرِيرِ مِنْ زَمْهَرِيرِهَا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَقَالَ : " إِنَّ جَهَنَّمَ قَالَتْ : أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا " وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ نُسِبَ إِلَى وَضْعِ الْحَدِيثِ . ¤سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ نے مکہ میں ظہر کی نماز کے لئے اذان دی ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی اس وقت مکہ میں موجود تھے ، انہوں نے آواز کو بلند رکھا ، یہ اس وقت کی بات ہے ، جب سورج ڈھل گیا تھا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے ابومحذورہ ! کیا تمہیں اس بات کا اندیشہ نہیں ہوا کہ تم ( آواز کو زیادہ بلند کرنے کی وجہ سے ) اپنے گلے کی رگوں کو چیر دو گے ؟ تو انہوں نے کہا: مجھے یہ بات اچھی لگی کہ میں اس کی آواز آپ تک پہنچاؤں ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بتایا : کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب گرمی شدید ہو ، تو نماز کو ٹھنڈے وقت میں ادا کرو ، کیونکہ گرمی ، جہنم کی تپش کا حصہ ہے ، جہنم بھڑک رہی ہوتی ہے ، یہاں تک کہ اُس کا ایک حصہ دوسرے کو کھا لیتا ہے ، تو وہ اللہ تعالیٰ سے دو مرتبہ سانس لینے کی اجازت لیتی ہے ، تو اللہ تعالیٰ اسے اجازت دے دیتا ہے ، تو گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا حصہ ہے ، اور سردی کی شدت اُس کی ٹھنڈک کا حصہ ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” جہنم نے یہ کہا: میرا ایک حصہ دوسرے کو کھا رہا ہے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے ، جس کی نسبت حدیث ایجاد کرنے کی طرف کی گئی ہے ۔