مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَقُولُ بَعْدَ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ . باب: ( آدمی ) فجر کی دو رکعت کے بعد کیا پڑھے ؟
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ ، ثُمَّ يَقُولُ [ فِي مُصَلَّاهُ ] : " اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ ، وَرَبَّ إِسْرَافِيلَ ، وَرَبَّ مُحَمَّدٍ ، أَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ " . ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ . قُلْتُ : رَوَاهُ النَّسَائِيُّ بِنَحْوِهِ مِنْ غَيْرِ تَقْيِيدٍ بِرَكْعَتَيِ الْفَجْرِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، عَنْ شَيْخِهِ سُفْيَانَ بْنِ وَكِيعٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح صادق ہونے سے پہلے دو رکعت ادا کرتے تھے ، پھر آپ اپنی جائے نماز پر موجود رہتے ہوئے یہ پڑھتے تھے : اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ ، وَرَبَّ إِسْرَافِيلَ ، وَرَبَّ مُحَمَّدٍ ، أَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ “” “” ۔ ” اے اللہ ! اے جبرائیل اور میکائیل کے پروردگار ! اور اسرافیل کے پروردگار ! اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پروردگار ! میں جنہم سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے تشریف لے جاتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام نسائی رحمہ اللہ نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس میں فجر کی دو رکعت کی قید ذکر نہیں کی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اپنے استاد سفیان بن وکیع کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔