مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَذْكَارِ عَقِبَ الصَّلَاةِ . باب: نماز کے بعد اذکار کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاتِهِ قَالَ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ زَادَ : " يُحْيِي وَيُمِيتُ " . وَلَمْ يَقُلْ : " بِيَدِهِ الْخَيْرُ " . وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھ کر فارغ ہوتے تھے تو آپ یہ پڑھتے تھے : «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ»
” اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے ، حمد اسی کے لیے مخصوص ہے ، ہر بھلائی اسی کے دست قدرت میں ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ، اے اللہ ! جسے تو عطا کرے اسے کوئی رکاوٹ بننے والا نہیں ہے اور جسے تو عطا نہ کرے ، اُسے کوئی دینے والا نہیں ہے ، اور تیرے مقابلے میں کسی کوشش کرنے والے کی کوشش کام نہیں آتی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ” وہ زندگی دیتا ہے اور وہ موت دیتا ہے “ اور انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کئے ہیں : ” ہر قسم کی بھلائی اسی کے دست قدرت میں ہے ۔ “
ان دونوں کی سند حسن ہے ۔