مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَذْكَارِ عَقِبَ الصَّلَاةِ . باب: نماز کے بعد اذکار کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كُنَّا نَعْرِفُ انْصِرَافَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِقَوْلِهِ : " سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ختم ہونے کا ، آپ کے یہ پڑھنے سے پتہ چلتا تھا : «سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ” تمہارا پروردگار جو غلبے والا پروردگار ہے ، وہ ان چیزوں سے پاک ہے ، جو وہ ( اس کی ) صفت بیان کرتے ہیں ، اور رسولوں پر سلام ہو اور ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ بن عبید بن عمیر ہے اور وہ متروک ہے ۔