مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحَمْدِ . باب: حمد کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ حُذَيْفَةَ : أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " بَيْنَا أَنَا أُصَلِّي إِذْ سَمِعْتُ مُتَكَلِّمًا يَقُولُ : اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كُلُّهُ ، وَلَكَ الْمُلْكُ كُلُّهُ ، بِيَدِكَ الْخَيْرُ كُلُّهُ ، إِلَيْكَ يَرْجِعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ ، عَلَانِيَتُهُ وَسِرُّهُ ، فَأَهْلٌ أَنْ تُحْمَدَ ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي جَمِيعَ مَا مَضَى مِنْ ذُنُوبِي ، وَاعْصِمْنِي فِيمَا بَقِيَ مِنْ عُمْرِي ، وَارْزُقْنِي عَمَلًا زَاكِيًا تَرْضَى بِهِ عَنِّي " . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ذَاكَ مَلَكٌ أَتَاكَ يُعَلِّمُكَ تَحْمِيدَ رَبِّكَ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے بتایا : میں نماز ادا کر رہا تھا ، اسی دوران میں نے کسی کہنے والے کو یہ کہتے ہوئے سنا : «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كُلُّهُ ، وَلَكَ الْمُلْكُ كُلُّهُ ، بِيَدِكَ الْخَيْرُ كُلُّهُ ، إِلَيْكَ يَرْجِعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ ، عَلَانِيَتُهُ وَسِرُّهُ ، فَأَهْلٌ أَنْ تُحْمَدَ ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي جَمِيعَ مَا مَضَى مِنْ ذُنُوبِي ، وَاعْصِمْنِي فِيمَا بَقِيَ مِنْ عُمْرِي ، وَارْزُقْنِي عَمَلًا زَاكِيًا تَرْضَى بِهِ عَنِّي»
” اے اللہ ! ساری کی ساری حمد تیرے ہی لیے مخصوص ہے اور ساری کی ساری بادشاہی تیرے ہی لئے مخصوص ہے ، اور ساری بھلائی تیرے ہی دست قدرت میں ہے ، ہر معاملہ تیری ہی طرف لوٹتا ہے ، خواہ وہ علانیہ ہو یا پوشیدہ ہو ، تو اس بات کا اہل ہے کہ تیری حمد بیان کی جائے ، بیشک تو ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ، اے اللہ ! میرے جتنے گناہ گزر چکے ہیں ، تو ان سب کی مغفرت کر دے اور باقی کی عمر میں ، مجھے گناہوں سے محفوظ رکھنا ، اور مجھے ایسا عمل نصیب کرنا جو پاکیزہ ہو ، جس کی وجہ سے تو مجھ سے راضی ہو جائے ۔ “
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ ایک فرشتہ تھا جو تمہارے پاس آیا تھا تاکہ تمہیں اس بات کی تعلیم دے کہ تم نے اپنے پروردگار کی حمد کیسے بیان کرنی ہے ؟ “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔