حدیث نمبر: 16886
وَعَنِ الْأُسُودِ بْنِ سَرِيعٍ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي حَمِدْتُ رَبِّي - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - بِمَحَامِدَ وَمَدْحٍ وَإِيَّاكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَمَا إِنَّ رَبَّكَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يُحِبُّ الْمَدْحَ " . قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْأَدَبِ بِتَمَامِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ بِتَمَامِهِ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ : " إِنَّ رَبَّكَ يُحِبُّ الْحَمْدَ " . بَدَلَ : " الْمَدْحِ " . ¤ وَأَحَدُ أَسَانِيدِ أَحْمَدَ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے اپنے پروردگار کے بارے میں کچھ کلمات کہے ہیں اور آپ کی تعریف کے بارے میں کچھ کلمات کہے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جہاں تک تمہارے پروردگار کا معاملہ ہے ، تو وہ مدح کو پسند کرتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ راوی کہتے ہیں : پھر اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو اس سے پہلے کتاب ” الادب “ میں مکمل روایت گزر چکی ہے ۔ یہ مکمل روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، امام طبرانی کی روایت میں لفظ ” مدح “ کی جگہ یہ الفاظ ہیں : ” بیشک تمہارا پروردگار حمد کو پسند کرتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ امام أحمد کی اسانید میں سے ایک کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16886
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (823 و 822 و 821 و 820) اخرجه احمد فى المسند (435/3)»