مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبَاقِيَاتِ الصَّالِحَاتِ وَنَحْوِهَا . باب: باقی رہ جانے والی نیکیوں ، اور ان جیسی دوسری چیزوں کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ - رَحِمَهُ اللَّهُ - : " أَلَا تَرْتَعُ فِي رَوْضَةِ الْجَنَّةِ وَتُرِيحُ فِيهَا ؟ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا الرَّتْعُ ؟ قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ " . ¤ قَالَ سَلْمَانُ : إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ غَرْسًا ، فَمَا غِرَاسُ الْجَنَّةِ ؟ قَالَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى لَهُ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثًا بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ حُمَيْدٌ الْمَكِّيُّ ، وَلَيْسَ هُوَ حُمَيْدَ بْنَ قَيْسٍ ، هَذَا مَوْلَى ابْنِ عَلْقَمَةَ ، لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ زَيْدِ بْنِ الْحُبَابِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم جنت کے باغوں میں سے کچھ کھاتے کیوں نہیں ہو ؟ اس میں چلتے پھرتے کیوں نہیں ہو ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس میں سے کھانے سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «الحمد لله» اور «سبحان الله» اور «لَا إِلَهَ إِلَّا الله» اور «الله اكبر» پڑھنا ۔ “ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: ہر چیز کو بویا جاتا ہے ، تو جنت میں ہونے کا طریقہ کیا ہے ؟ نبی اکرم نے ارشاد فرمایا : «سبحان الله» - اور «الْحَمْدُ الله» اور «لا اله الا الله» اور «الله اكبر» پڑھنا ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس صحابی کے حوالے سے ایک حدیث نقل کی ہے جو اس سیاق کے بغیر ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حمید مکی ہے ، یہ حمید بن قیس نہیں ہے ، یہ ابن علقمہ کا غلام ہے ، زید بن حباب کے علاوہ اور کسی نے اس سے روایت نقل نہیں کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔