حدیث نمبر: 1682
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَدَّثَهُمْ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ جَاءَهُ ، فَصَلَّى بِهِ الصَّلَوَاتِ وَقْتَيْنِ وَقْتَيْنِ إِلَّا الْمَغْرِبَ : " جَاءَنِي صَلَّى بِي الظُّهْرَ حِينَ كَانَ فَيْئِي مِثْلَ شِرَاكِ نَعْلِي ، ثُمَّ جَاءَنِي فَصَلَّى بِي الْعَصْرَ حِينَ كَانَ فَيْئِي مِثْلِي ، ثُمَّ جَاءَنِي فِي الْمَغْرِبِ فَصَلَّى بِي سَاعَةَ غَابَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ جَاءَنِي فِي الْعَشَاءِ فَصَلَّى سَاعَةَ غَابَ الشَّفَقُ ، ثُمَّ جَاءَنِي فِي الْفَجْرِ فَصَلَّى بِي سَاعَةَ بَرِقَ الْفَجْرُ ، ثُمَّ جَاءَنِي مِنَ الْغَدِ فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ كَانَ الْفَيْءُ مِثْلِي ، ثُمَّ جَاءَنِي فِي الْعَصْرِ فَصَلَّى بِي حِينَ كَانَ فَيْئِي مِثْلَيَّ ، ثُمَّ جَاءَنِي فِي الْمَغْرِبِ فَصَلَّى بِي حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ - لَمْ يُغَيِّرْهُ عَنْ وَقْتِهِ الْأَوَّلِ - ثُمَّ جَاءَنِي فِي الْعِشَاءِ فَصَلَّى بِي حِينَ ذَهَبَ ثُلْثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ أَسْفَرَ فِي الْفَجْرِ حَتَّى لَا أَرَى فِي السَّمَاءِ نَجْمًا ، ثُمَّ قَالَ : مَا بَيْنَ هَذَيْنِ وَقْتٌ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ أَسِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ ، ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَقَالَ : سَمِعَ مِنْهُ أَبُو نُعَيْمٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ ذَلِكَ . وَشَيْخُ الْبَزَّارِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو یہ بات بتائی : سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور تمام نمازیں دو مختلف اوقات میں پڑھائیں ، البتہ مغرب کی نماز کا معاملہ مختلف ہے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں : ) وہ میرے پاس آئے ، انہوں نے مجھے ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی ، جب میرا سایہ میرے جوتے کے تسمے کی مانند ہو چکا تھا ، پھر وہ میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب میرا سایہ ایک مثل ہو گیا تھا ، پھر وہ میرے پاس مغرب کی نماز کے لئے آئے تو انہوں نے مجھے یہ نماز اس وقت پڑھا دی جب سورج غروب ہو گیا تھا ، پھر وہ عشاء کے وقت میرے پاس آئے اور اس وقت نماز پڑھائی جب شفق غروب ہوئی تھی ، پھر وہ فجر کی نماز میں میرے پاس آئے ، تو اس وقت نماز پڑھائی ، جب صبح صادق ہوئی تھی ، جب وہ اگلے دن میرے پاس آئے ، تو انہوں نے ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی ، جب میرا سایہ ایک مثل ہو گیا تھا ، پھر وہ عصر کی نماز کے لئے میرے پاس اس وقت آئے اور انہوں نے مجھے نماز اس وقت پڑھائی ، جب میرا سایہ دو مثل ہو گیا تھا ، پھر وہ مغرب کی نماز کے لئے میرے پاس آئے ، اور مجھے وہ نماز اس وقت پڑھائی ، جب سورج غروب ہو گیا تھا ، اس نماز میں انہوں نے پہلے وقت سے کوئی تبدیلی نہیں کی تھی ، پھر وہ عشاء کی نماز کے لئے میرے پاس آئے اور مجھے یہ نماز اس وقت پڑھائی جب رات کا ابتدائی ایک تہائی حصہ رخصت ہو چکا تھا ، پھر انہوں نے فجر کی نماز روشنی میں ادا کی ، یہاں تک کہ مجھے آسمان میں کوئی ستارہ دکھائی نہیں دے رہا تھا ، پھر انہوں نے بتایا : ان دونوں کے درمیان ( نمازوں کا مخصوص ) وقت ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہے ، عمر بن عبدالرحمن بن اسید بن عبدالرحمن بن زید بن خطاب ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے : ابونعیم اور عبداللہ بن نافع نے اس سے سماع کیا ہے ، میں نے اپنے والد کو یہی بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے ، امام بزار کے استاد ابراہیم بن نصر ہیں ، میں نے کسی کو ان کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1682
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف