مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ الصَّلَاةِ فِي أَوَّلِ الْوَقْتِ . باب: نماز کو ابتدائی وقت میں ادا کرنا
عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ يُقَالُ لَهُ : عِيَاضٌ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " عَلَيْكُمْ بِذِكْرِ رَبِّكُمْ ، وَصَلُّوا صَلَاتَكُمْ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا ; فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يُضَاعِفُ لَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ النَّهَّاسُ بْنُ قَهْمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِيمَنْ يُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا بَعْدَ هَذَا - إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤عبدالقیس قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب ، جن کا نام سیدنا عیاض رضی اللہ عنہ ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم پر لازم ہے کہ اپنے پروردگار کو یاد کرتے رہو ، اور تم نماز اس کے ابتدائی وقت میں ادا کر لینا ، اللہ تعالی تمہیں اس کا دگنا اجر عطا کرے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نہاس بن قہم ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس بارے میں احادیث آگے آئیں گی ، جو اس شخص کے بارے میں ہیں ، جو نماز کو اس کے مخصوص وقت سے تاخیر سے ادا کرتا ہے ، اگر اللہ نے چاہا ۔