مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ . باب: ’’ لا الہ الا اللہ “ کی فضیلت کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادٍ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي شَدَّادُ بْنُ أَوْسٍ - وَعُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ حَاضِرٌ يُصَدِّقُهُ - قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " هَلْ فِيكُمْ غَرِيبٌ ؟ " - يَعْنِي أَهْلَ الْكِتَابِ - قُلْنَا : لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَمَرَ بِغَلْقِ الْبَابِ وَقَالَ : " ارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ وَقُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " . فَرَفَعْنَا أَيْدِينَا سَاعَةً ، [ ثُمَّ وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ ] ، ثُمَّ قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ ، اللَّهُمَّ إِنَّكَ بَعَثْتَنِي بِهَذِهِ الْكَلِمَةِ ، وَأَمَرْتَنِي بِهَا ، وَوَعَدْتَنِي عَلَيْهَا الْجَنَّةَ ، وَإِنَّكَ لَا تُخَلِفُ الْمِيعَادَ " . ثُمَّ قَالَ : " أَلَا أَبْشِرُوا فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَاشِدُ بْنُ دَاوُدَ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤یعلیٰ بن شداد بیان کرتے ہیں : میرے والد سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث بیان کی : اُس وقت سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بھی وہاں موجود تھے ، اور انہوں نے میرے والد کی بات کی تصدیق کی ، وہ بیان کرتے ہیں : ” ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تمہارے درمیان کوئی اجنبی موجود ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ اہل کتاب سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص موجود ہے ؟ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازہ بند کر دینے کا حکم دیا اور پھر ارشاد فرمایا : ” تم اپنے ہاتھ بلند کرو ! اور ” لا الہ الا اللہ “ پڑھو !“ ہم نے کچھ دیر اپنے ہاتھ بلند کئے رکھے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک نیچے کر لیا اور پھر یہ فرمایا : ” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، اے اللہ ! تو نے مجھے اس کلمہ کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، اور تو نے مجھے اس کے بارے میں حکم دیا ہے ، اور تو نے میرے ساتھ اس کے حوالے سے جنت کا وعدہ کیا ہے ، بے شک تو وعدے کے خلاف نہیں کرتا ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ خوشخبری حاصل کرو ! کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری مغفرت کر دی ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی راشد بن داؤد ہے ، جسے ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔