حدیث نمبر: 16796
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُفَضِّلُ الصَّلَاةَ الَّتِي يَسْتَاكُ لَهَا عَلَى الصَّلَاةِ الَّتِي لَا يَسْتَاكُ لَهَا سَبْعِينَ ضِعْفًا . ¤ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لِفَضْلِ الذِّكْرِ الْخَفِيِّ الَّذِي لَا يَسْمَعُهُ سَبْعُونَ ضِعْفًا ، فَيَقُولُ : إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ ، وَجَمَعَ اللَّهُ الْخَلَائِقَ لِحِسَابِهِمْ ، وَجَاءَتِ الْحَفَظَةُ بِمَا حَفِظُوا وَكَتَبُوا ، قَالَ اللَّهُ لَهُمْ : انْظُرُوا هَلْ بَقِيَ لَهُ مِنْ شَيْءٍ ؟ فَيَقُولُونَ : رَبَّنَا ، مَا تَرَكْنَا شَيْئًا مِمَّا عَلِمْنَاهُ وَحَفِظْنَاهُ إِلَّا وَقَدْ أَحْصَيْنَاهُ وَكَتَبْنَاهُ ، فَيَقُولُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لَهُ : إِنَّ لَكَ عِنْدِي خَبِيئًا لَا تَعْلَمُهُ ، وَأَنَا أَجْزِيكَ بِهِ ، وَهُوَ الذِّكْرُ الْخَفِيُّ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى الصَّدَفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جو نماز مسواک کرنے کے بعد ادا کی جاتی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز کو اُس نماز پر ستر گنا فضیلت دیتے تھے ، جو مسواک کیے بغیر ادا کی جاتی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” وہ ذکر جو پوشیدہ ہو ، جسے کوئی دوسرا نہ سنے ، وہ ذکر ستر گنا فضیلت رکھتا ہے ۔ “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں : ” جب قیامت کا دن ہو گا ، تو اللہ تعالیٰ ساری مخلوق کو حساب کے لیے جمع کرے گا ، انسان کے محافظ فرشتے وہ چیز لے کر آئیں گے جو انہوں نے محفوظ کی اور جو تحریر کی ، اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا : تم اس کا جائزہ لو ! کہ کیا اس شخص کی کوئی چیز باقی رہ گئی ہے ؟ تو وہ فرشتے عرض کریں گے : اے ہمارے پروردگار ! ہمیں جس چیز کا علم تھا ، ہم نے اس میں سے کوئی بھی چیز نہیں چھوڑی ہے ، اُسے محفوظ کیا ، اُسے شمار کیا اور نوٹ کیا ہے ، تو پروردگار ( اس بندے سے ) فرمائے گا : ” میرے پاس تمہارے لئے ایک سنبھال کے رکھی ہوئی چیز ہے ، جس سے تم واقف نہیں ہو ( متن میں اسی طرح مذکور ہے ، تاہم شاید یہ لفظ ہونا چاہیے ، جس سے یہ فرشتے واقف نہیں ہیں ) اور میں تمہیں اُس کا بدلہ دوں گا اور وہ چیز ذکر خفی ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی معاویہ بن یحیی صدفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16796
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4738)»