مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ وَحَقْنِهَا لِلدَّمِ . باب: نماز کی فضیلت اور اس کا جان کو محفوظ کرنا
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْأَلُهُ عَنْ أَفْضَلِ الْأَعْمَالِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصَّلَاةُ " . قَالَ : ثُمَّ مَهْ ؟ قَالَ : " الصَّلَاةُ " . قَالَ : الصَّلَاةُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَلَمَّا غَلَبَ عَلَيْهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . قَالَ الرَّجُلُ : فَإِنَّ لِي وَالِدَيْنِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " آمُرُكَ بِالْوَالِدَيْنِ خَيْرًا " . قَالَ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا لَأُجَاهِدَنَّ وَلَأَتْرُكُنَّهُمَا . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْتَ أَعْلَمُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ حَسَّنَ لَهُ التِّرْمِذِيُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي فَضْلِ الصَّلَاةِ أَيْضًا فِي فَضْلِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ فضیلت والے عمل کے بارے میں دریافت کیا : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نماز ، اُس نے دریافت کیا : پھر کون سا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نماز ، تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فرمایا ، پھر جب اُس نے دوبارہ یہی سوال کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس سے فرمایا : اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا ، اُس شخص نے کہا: میرے والدین موجود ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں تمہیں والدین کے ساتھ بھلائی کا حکم دیتا ہوں ، اُس شخص نے کہا: اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ نبی بنا کر مبعوث کیا ہے ، میں جہاد میں ضرور حصہ لوں گا ، اور اُن دونوں کو چھوڑ کر چلا جاؤں گا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم زیادہ بہتر جانتے ہو ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، امام ترمذی نے اس کے حوالے سے منقول روایت کو حسن قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) نماز کی فضیلت کے بارے میں احادیث ” نفل نماز کی فضیلت “ سے متعلق باب میں بھی آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔