حدیث نمبر: 1673
وَعَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ : أَتَيْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ بِالشَّامِ فَقَالَ : مَا جَاءَ بِكَ يَا بُنَيَّ إِلَى هَذِهِ الْبَلْدَةِ ؟ وَمَا عَنَاكَ إِلَيْهَا ؟ قَالَ : مَا جَاءَ بِي إِلَّا صِلَةُ مَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ أَبِي ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَجْلَسَنِي بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ : بِئْسَ سَاعَةُ الْكَذِبِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُذْنِبُ ذَنْبًا ، فَيَتَوَضَّأُ ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ أَوْ أَرْبَعًا مَفْرُوضَةً أَوْ غَيْرَ مَفْرُوضَةٍ ، ثُمَّ يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ - إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : تَفَرَّدَ بِهِ صَدَقَةُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ . قُلْتُ : وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین

یوسف بن عبداللہ بن سلام بیان کرتے ہیں : میں شام میں ، سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، انہوں نے دریافت کیا : اے میرے بیٹے ! تم اس شہر میں کس سلسلے میں آئے ہو ؟ اور یہاں آنے کے حوالے سے تمہارا مقصد کیا ہے ؟ تو یوسف نے جواب دیا : میں صرف اس لئے آیا ہوں ، تاکہ اُس تعلق کا خیال رکھوں ، جو آپ کے اور میرے والد کے درمیان تھا ، تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا ، اور مجھے اپنے سامنے بٹھا لیا اور بولے : وہ گھڑی بری ہو ، جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کئی گئی ہو ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : جو بھی مسلمان کسی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے اور پھر وضو کر کے دو رکعات یا چار رکعات ادا کر لیتا ہے خواہ وہ ( دو یا چار رکعات ) فرض ہوں ، یا فرض نہ ہوں ، اور پھر وہ ( مسلمان ) اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اُس کی مغفرت کر دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : صدقہ بن ابوسہل نامی راوی اسے روایت کرنے میں منفرد ہے ، میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو اُس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1673
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «المعجم الاوسط للطبرانى باب العين باب الميم من اسمه محمد حديث 5129»