مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْأُمَّةِ . باب: اس امت کی فضیلت کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " عُرِضَتْ عَلَيَّ أُمَّتِي الْبَارِحَةَ لَدُنْ هَذِهِ الْحُجْرَةِ حَتَّى لَأَنَا أَعْرِفُ بِالرَّجُلِ مِنْهُمْ مِنْ أَحَدِكُمْ بِصَاحِبِهِ " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا عُرِضَ عَلَيْكَ مَنْ خُلِقَ مِنْهُمْ ، أَرَأَيْتَ مَنْ لَمْ يُخْلَقْ ؟ قَالَ : " صُوِّرُوا لِي ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَأَنَا أَعْرَفُ بِالْإِنْسَانِ مِنْهُمْ مِنَ الرَّجُلِ بِصَاحِبِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ زِيَادُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤سیدنا حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” گزشتہ رات میرے سامنے اس حجرے میں میری اُمت کو پیش کیا گیا ، یہاں تک کہ میں اُن میں سے ہر ایک شخص کو اس سے زیادہ بہتر طور پر پہچان گیا ، جتنا تم میں سے کوئی ایک اپنے ساتھی کو پہچانتا ہے ، حاضرین میں سے ایک صاحب بولے : یا رسول اللہ ! یہ تو آپ کے سامنے وہ لوگ پیش کیے گئے جو اُن میں سے پیدا ہو چکے ہیں ، تو ان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ جو ابھی پیدا نہیں ہوئے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اُن کی شکلیں میرے سامنے پیش کی گئیں ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، میں ان میں سے کسی شخص کو اُس سے زیادہ بہتر طور پر پہچان گیا ، جتنا کوئی شخص اپنے ساتھی کو پہچانتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زیاد بن منذر ہے اور وہ کذاب ہے ۔