حدیث نمبر: 16711
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : غَابَ عَنَّا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يَخْرُجْ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ لَنْ يَخْرُجَ ، فَلَمَّا خَرَجَ سَجَدَ سَجْدَةً فَظَنَنَّا أَنَّ نَفْسَهُ قَدْ قُبِضَتْ فِيهَا ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ : " إِنَّ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - اسْتَشَارَنِي فِي أُمَّتِي : مَاذَا أَفْعَلُ بِهِمْ ؟ قُلْتُ : مَا شِئْتَ أَيْ رَبِّي ، هُمْ خَلْقُكَ وَعِبَادُكَ ، فَاسْتَشَارَنِي الثَّانِيَةَ فَقُلْتُ لَهُ كَذَلِكَ ، فَقَالَ : لَا نُخْزِيكَ فِي أُمَّتِكَ يَا مُحَمَّدُ ، . ¤ وَأَخْبَرَنِي أَنَّ أَوَّلَ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا ، مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا ، لَيْسَ عَلَيْهِمْ حِسَابٌ . ¤ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيَّ فَقَالَ : ادْعُ تُجَبْ ، وَسَلْ تُعْطَهْ ، فَقُلْتُ لِرَسُولِهِ : أَوَمُعْطِيَّ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - سُؤْلِي ؟ قَالَ : مَا أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ إِلَّا لِيُعْطِيَكَ ، وَلَقَدْ أَعْطَانِي رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - وَلَا فَخْرَ ، وَغَفَرَ لِي مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِي وَمَا تَأَخَّرَ ، وَأَنَا أَمْشِي حَيًّا صَحِيحًا ، وَأَعْطَانِي أَنْ لَا تَجُوعَ أُمَّتِي وَلَا تُغْلَبَ ، وَأَعْطَانِي الْكَوْثَرَ فَهُوَ نَهْرٌ مِنَ الْجَنَّةِ يَسِيلُ فِي حَوْضِي ، وَأَعْطَانِي الْعِزَّ ، وَالنَّصْرَ ، وَالرُّعْبَ يَسِيرُ بَيْنَ يَدَيْ أُمَّتِي شَهْرًا ، وَأَعْطَانِي أَنِّي أَوَّلُ الْأَنْبِيَاءِ أَدْخَلُ الْجَنَّةَ ، وَطَيَّبَ لِي وَلِأُمَّتِي الْغَنِيمَةَ ، وَأَحَلَّ لَنَا كَثِيرًا مِمَّا شَدَّدَ عَلَى مَنْ قَبْلَنَا ، وَلَمْ يَجْعَلْ عَلَيْنَا مِنْ حَرَجٍ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کافی دیر تک تشریف نہیں لائے ، یہاں تک کہ جب ہم نے یہ گمان کیا کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہیں لائیں گے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا ، یہاں تک کہ ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید اس سجدے میں آپ کی جان قبض ہو گئی ہے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے پروردگار نے میری امت کے بارے میں مجھ سے مشورہ لیا کہ میں اُن کے ساتھ کیا کروں ؟ تو میں نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! تو جو چاہے کرے ، وہ تیری مخلوق ہیں اور تیرے بندے ہیں ، پروردگار نے دوسری مرتبہ مجھ سے مشورہ لیا تو میں نے یہی بات عرض کی ، پروردگار نے فرمایا : اے محمد ! تمہاری امت کے بارے میں ہم تمہیں غمگین نہیں کریں گے ۔ “
( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) ” پروردگار نے مجھے یہ بتایا : میری امت میں سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والی ستر ہزار افراد ہوں گے جن میں سے ہر ایک ہزار کے ہمراہ ، مزید ستر ہزار ہوں گے ، اور ان سے کوئی حساب نہیں لیا جائے گا ۔ “
پھر اُس ( پروردگار ) نے مجھے پیغام بھیجا اور فرمایا : ” تم دعا مانگو ! وہ قبول ہو گی ، تو مانگو ! تمہیں دیا جائے گا ، تو میں نے اس کے قاصد سے کہا: کیا میں جو مانگوں گا ؟ میرا پروردگار مجھے وہ دے گا ؟ قاصد نے کہا: اس نے مجھے آپ کی طرف اسی لیے بھیجا ہے تاکہ وہ آپ کو وہ چیز دے ( یعنی جو آپ مانگیں گے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو میں یہ بات فخر کے اظہار کے لئے نہیں کہہ رہا ، میرے پروردگار نے یہ چیز مجھے عطا کی : کہ اس نے میرے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دی ، اور اب میں زندہ اور صحیح ہونے کے طور پر چلتا ہوں ، اور اس نے مجھے یہ چیز عطا کی کہ میری اُمت بھوک کا شکار نہیں ہو گی ، اور وہ مغلوب نہیں ہو گی ، اور اس نے مجھے کوثر عطا کی ، یہ جنت کی نہر ہے ، جو بہتی ہوئی میرے حوض میں آتی ہے ۔
اور اس نے مجھے غلبہ مدد اور رعب عطا کیا ، جو میری اُمت کے آگے ایک مہینے کی مسافت تک ہو گا ، اور اس نے مجھے یہ چیز عطا کی کہ میں انبیاء کرام میں سے ، جنت میں سب سے پہلے داخل ہوؤں گا اور اس میں میرے لئے اور میری اُمت کے لیے مال غنیمت کو پاکیزہ ( یعنی حلال ) قرار دیا اور اس نے ہمارے لیے بہت سی ایسی چیزوں کو حلال قرار دیا ، جن کے حوالے سے اُس نے ہم سے پہلے لوگوں پر سختی کی تھی ، اور اس نے ہم پر حرج کو لازم قرار نہیں دیا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16711
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (393/5)»