حدیث نمبر: 16676
وَعَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ قَالَ : لَمَّا فُتِحَتْ مِصْرُ سَبُّوا أَهْلَ الشَّامِ ، فَأَخْرَجَ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ رَأْسَهُ مِنْ بُرْنُسٍ ثُمَّ قَالَ : يَا أَهْلَ مِصْرَ ، لَا تَسُبُّوا أَهْلَ الشَّامِ ; فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " فِيهِمُ الْأَبْدَالُ ، فَبِهِمْ تُنْصَرُونَ ، وَبِهِمْ تُرْزَقُونَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ جُمْهُورُ الْأَئِمَّةِ ، وَوَثَّقَهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ ، وَشَهْرٌ اخْتَلَفُوا فِيهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

شہر بن حوشب بیان کرتے ہیں : جب مصر فتح ہوا اور لوگوں نے اہل شام کو قیدی بنا لیا ، تو سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے اپنی ٹوپی میں سے اپنا سر باہر نکالا اور پھر یہ فرمایا : اے اہل مصر ! تم اہل شام کو برا نہ کہو ! کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ان میں ” ابدال “ ہوتے ہیں ، ان کی وجہ سے تمہاری مدد کی جاتی ہے ، اور ان کی وجہ سے تمہیں رزق دیا جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن واقد ہے جسے جمہور ائمہ نے ضعیف قرار دیا ہے ، محمد بن مبارک صوری نے اسے ثقہ کہا: ہے ، اس میں ایک راوی شہر ہے جس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16676
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (65/18)»