مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَبْدَالِ ، وَأَنَّهُمْ بِالشَّامِ . باب: ’’ ابدال “ کے بارے میں جو منقول ہے ، اور یہ کہ وہ شام میں ہوتے ہیں
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَزَالُ أَرْبَعُونَ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي قُلُوبُهُمْ عَلَى قَلْبِ إِبْرَاهِيمَ ، يَدْفَعُ اللَّهُ بِهِمْ عَنْ أَهْلِ الْأَرْضِ ، يُقَالُ لَهُمْ : الْأَبْدَالُ " . ¤ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّهُمْ لَمْ يُدْرِكُوهَا بِصَلَاةٍ ، وَلَا بِصَوْمٍ ، وَلَا صَدَقَةٍ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَبِمَ أَدْرَكُوهَا ؟ قَالَ : " بِالسَّخَاءِ ، وَالنُّصْحِيَّةِ لِلْمُسْلِمِينَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ ثَابِتِ بْنِ عَيَّاشٍ الْأَحْدَبِ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْكَلْبِيِّ ، وَكِلَاهُمَا لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت میں ہر وقت چالیس ایسے افراد ہمیشہ رہیں گے جن کے دل سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے دل کی مانند ہوں گے ، اللہ تعالیٰ اُن کی وجہ سے اہل زمین سے ( عذاب وغیرہ کو ) پرے کرے گا ، انہیں ابدال کہا: جائے گا ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ لوگ نماز یا روزہ یا صدقہ کی وجہ سے اس مقام تک نہیں پہنچیں گے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر وہ کسی وجہ سے اس مقام تک پہنچیں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سخاوت کی وجہ سے اور مسلمانوں کی خیرخواہی کی وجہ سے ( وہ اس مقام تک پہنچیں گے ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، انہوں نے اسے ثابت بن عیاش احدب کے حوالے سے ابورجاء کلبی سے نقل کیا ہے اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔