حدیث نمبر: 16635
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ جُلُوسٌ ، فَأَوْسَعْنَا لَهُ فَجَلَسَ ، وَقَالَ : " أَيْنَ أَصْحَابِي الَّذِينَ أَنَا مِنْهُمْ ، وَهُمْ مِنِّي ؟ وَأَدْخُلُ الْجَنَّةَ ، وَيَدْخُلُونَهَا مَعِي ؟ " . فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنَا قَالَ : " نَعَمْ . أَهْلُ الْيَمَنِ الْمُطَرَّحِينَ فِي أَطْرَافِ الْأَرْضِ ، الْمَدْفُوعُونَ عَنْ أَبْوَابِ السُّلْطَانِ ، يَمُوتُ أَحَدُهُمْ وَحَاجَتُهُ فِي صَدْرِهِ لَمْ يَقْضِهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ فِيهِمْ خِلَافٌ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي فَضْلِ قَبَائِلِ الْعَرَبِ يَتَضَمَّنُ بَعْضُهَا أَهْلَ الْيَمَنِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، ہم اُس وقت بیٹھے ہوئے تھے ، ہم نے آپ کے لئے گنجائش بنائی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے وہ اصحاب کہاں ہیں کہ میں اُن سے ہوں اور وہ مجھ سے ہیں ، میں جنت میں داخل ہوؤں گا تو وہ میرے ساتھ اُس میں داخل ہوں گے ۔ “ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں بتائیں گے ؟ ( کہ اس سے مراد کون لوگ ہیں ؟ ) ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! وہ اہل یمن ہیں ، جنہیں زمین میں دور کر دیا جاتا ہے اور حکمرانوں کے دروازوں سے پرے کر دیا جاتا ہے اور ان میں سے کوئی ایک فرد مرتا ہے تو اس کی خواہش اس کے سینے میں ہی رہ جاتی ہے ، جسے وہ پوری نہیں کر سکا ہوتا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک ایسی جماعت ہے جن کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے عربوں کے مختلف قبائل کی فضیلت کے بارے میں کچھ احادیث گزر چکی ہیں ، جن کے ضمن میں اہل یمن کا ذکر بھی ہوا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16635
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف