حدیث نمبر: 16622
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْمَدِينَةِ إِذْ قَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ، وَجَاءَ أَهْلُ الْيَمَنِ ، قَوْمٌ نَقِيَّةٌ قُلُوبُهُمْ ، حَسَنَةٌ طَاعَتُهُمْ - أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا - الْإِيمَانُ يَمَانٌ ، وَالْفِقْهُ يَمَانٌ ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى بْنِ مُسْلِمٍ الْحَنَفِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں موجود تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ اکبر “ جب اللہ کی مدد اور فتح آ گئی ، اور اہل یمن آ گئے جو ایسے لوگ ہیں ، جن کے دل صاف ہیں ، اور جن کی فرمانبرداری عمدہ ہے ( راوی کو شک ہے ، یا شاید اس کی مانند کوئی اور کلمہ ارشاد فرمایا ) ایمان ، یمانی ہے ، سمجھ بوجھ یمانی ہے اور دانائی یمانی ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عیسیٰ بن مسلم حنفی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16622
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2837) اخرجه ابو يعلى فى المسند (2505)»