حدیث نمبر: 16621
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ : أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ : " لَعَلَّكَ أَنْ تَمُرَّ بِقَبْرِي وَمَسْجِدِي ، وَقَدْ بَعَثْتُكَ إِلَى قَوْمٍ رَقِيقَةً قُلُوبُهُمْ ، يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ مَرَّتَيْنِ ، فَقَاتِلْ بِمَنْ أَطَاعَكَ مِنْهُمْ مَنْ عَصَاكَ ، ثُمَّ يَفِيئُونَ إِلَى الْإِسْلَامِ حَتَّى تُبَادِرَ الْمَرْأَةُ زَوْجَهَا ، وَالْوَلَدُ وَالِدَهُ ، وَالْأَخُ أَخَاهُ ، فَانْزِلْ بَيْنَ الْحَيَّيْنِ السَّكُونِ وَالسَّكَاسِكِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ يَزِيدَ بْنَ قُطَيْبٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذٍ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن بھیجنے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہو سکتا ہے کہ آئندہ تمہارا گزر میری قبر اور میری مسجد کے پاس سے ہو ، میں تمہیں ایک ایسی قوم کی طرف بھیج رہا ہوں ، جن کے دل نرم ہیں اور وہ حق کے لیے دو مرتبہ لڑائی کرتے ہیں ، تم اس شخص کے ساتھ مل کر جنگ کرنا ، جو اُن میں سے تمہاری اطاعت کرے گا ، اور اُس کے خلاف جنگ کرنا جو تمہاری نافرمانی کرے گا ، پھر وہ اسلام کی طرف لوٹ آئیں گے یہاں تک کہ ( یعنی اسلام قبول کرنے کے حوالے سے ) عورت اپنے شوہر پر ، اولاد اپنے والد پر اور بھائی ، بھائی پر سبقت لے جائے گا ، تم دو قبیلوں سکون اور سکاسک کے درمیان ٹھہرنا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔ البتہ یزید بن قطیب نامی راوی نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16621
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (235/5)»